تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 391
تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء ہماری جماعت بھی تو ساری کی ساری دن رات اشاعت دین میں مشغول نہ رہتی تھی ؟ کیا ہم میں ایسے لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کے لئے کالجوں میں پروفیسر یا سکولوں میں اساتذہ تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کے لئے لو ہارے کا کام کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کے لئے درزی کا کام کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کے لئے ڈاکٹری کا پیشہ کرتے تھے؟یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کے لئے انجینئر نگ کا کام کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جن میں سے کوئی اپنی روٹی کمانے کے لئے پٹواری کی ملازمت اختیار کئے ہوئے تھا، کوئی تحصیل دار تھا، کوئی ای اے سی تھا، کوئی زمیندارہ پرگزارہ کرتا تھا، پھر کون سا معقول انسان ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم میں لاکھوں آدمی اپنی روٹی کمانے کے لئے مختلف کام کرتے رہے لیکن ہماری دین سے بے رغبتی ثابت نہ ہوئی لیکن جونہی سلسلہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جماعت کے یتیم اور مسکین بچوں کو بھی مختلف پیشے سکھائے جائیں تا کہ وہ آوارہ نہ پھر میں اور بے روز گار رہ کر تکلیف نہ اٹھا ئیں ہماری جماعت فورا دین سے بے رغبت ہوگئی اور ہمارے دین کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔گویا جب تک ہم میں سے بعض اپنے نفس کے لئے روٹی کماتے رہے اس وقت تک تو مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک ہم دین دار تھے لیکن جب ہم نے یہ کوشش شروع کی کہ ہم اپنے ہنر قیموں اور مسکینوں کو بھی سکھائیں تو فوراً بقول مولوی محمد علی صاحب ہمارے ایمان کا دیوالیہ نکل گیا اور ہم دنیا میں مشغول ہو گئے اور وہ شکایت کرنے لگ گئے کہ اب قادیان میں دین کہاں رہ گیا؟ اب تو بے دینی آگئی ہے۔گویا ان کے نزدیک دین اسلام نام ہے تیموں کو بھوکا مارنے اور بے کاروں کو ہمیشہ بے کار رکھنے کا اور جب کسی قوم میں یتیموں کو کام پر لگانے کا جذبہ پیدا ہو جائے یا بے کاری کو دور کرنے اور غریبوں کو ہنر سکھانے کا اُسے خیال آئے اُسی دن سے وہ بے دین بن جائے گی۔ایک زمیندار اگر سارا دن اپنے زمیندارہ کے کام میں لگا رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ کسی غریب لڑکے کو زمیندارہ کا کام سکھا دیتا ہے تو بے دین بن جاتا ہے۔یہ دین کی ایسی اصطلاح ہے کہ غالباً مولوی محمد علی صاحب ہی اس کے موجد ہیں نہ کسی عقلمند آدمی کو اس سے پہلے یہ اصطلاح سوجھی ہے اور نہ شاید اب کسی عقلمند آدمی کی سمجھ میں یہ اصطلاح آئے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب سے تعلق رکھنے والے لائل پور میں بعض کارخانہ دار ہیں جنہیں اپنی قسم کے کارخانہ والوں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے مولوی محمد علی صاحب اُن سے چندے بھی وصول کرتے ہیں، اُن کی بڑی بڑی رقموں پر انہیں شاباش بھی دیتے ہیں مگر اُن کے کارخانوں میں بے دینی کی کوئی علامت انہیں نظر نہیں 391