تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 380
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول با قاعدہ پڑھنے لگا ہوں یا میں روزے با قاعدہ رکھتا ہوں یا میں زکوۃ دیتا ہوں یا میں حج اگر مجھے توفیق ہے تو بجالا چکا ہوں اور یہ خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے احمدیت پر عمل کر لیا تو اُس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر میں سے پانی کا ایک گلاس نکال لے اور خیال کرے کہ سمندر میرے قبضہ میں آ گیا ہے۔اگر صرف یہی پانچ سات مسائل اسلام کہلاتے ہیں تو اتنے بڑے قرآن کے نازل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ باتیں تو دو تین رکوع میں آسکتی تھیں۔پس جو شخص ان چندا کام پر قانع ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی نسبت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم کچھ حصہ قرآن پر ایمان لاتے اور کچھ حصہ کا انکار کرتے ہو آخر وہ وسیع تعلیمیں جو اللہ تعالیٰ نے توحید کے باریک مسائل کے متعلق قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں یا محبت الہی اور توکل کے متعلق بیان فرمائی ہیں یا وہ تفصیلات جو اس نے اخلاق کے متعلق بیان فرمائی ہیں یا تمدن یا سیاست یا اقتصادیات یا معاملات کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان پر کون عمل کرے گا؟ کیا قرآن کریم کے یہ حصے بے کار پڑے رہیں گے؟ کیا ان کی طرف توجہ کرنے والے مسلمانوں سے باہر کوئی اور لوگ ہوں گے؟ پس جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کے تمام مطالب اور اس کی تمام تعلیمات کو زندہ کرے خواہ وہ مذہب اور عقیدہ کے متعلق ہوں یا اخلاق کے متعلق ہوں یا اصول تمدن اور سیاسیات کے متعلق ہوں یا اقتصادیات اور معاملات کے متعلق ہوں کیونکہ دنیا ان سارے امور کے لئے پیاسی ہے اور بغیر اس معرفت کے پانی کے وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔خدا نے اسی موت کو دیکھ کر اپنا مامور بھیجا ہے اور وہ امید رکھتا ہے کہ اس مامور کی جماعت زندگی کے ہر شعبہ میں اسلامی تعلیم کو قائم کرے گی اور جس حد تک اُسے عمل کرنے کا موقع ہے وہ خود عمل کرے گی اور جن امور پر اسے ابھی قبضہ اور تصرف حاصل نہیں اُن کو اپنے اختیار میں لانے کی سعی اور کوشش کرے گی۔یاد رکھو! کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔پس اس پر خوش مت ہو کہ تلوار سے جہاد آج کل جائز نہیں یا یہ کہ دینی لڑائیاں بند کر دی گئی ہیں۔لڑائیاں بند نہیں کی گئیں لڑائی کا طریقہ بدلا گیا ہے اور شاید موجودہ طریقہ پہلے طریق سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ تلوار سے ملک کا فتح کرنا آسان ہے لیکن دلیل سے دل کا فتح کرنا مشکل ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 380