تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 371
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول 23 اقتباس از تقریر فرموده 25 اکتوبر 1936ء امانت فنڈ زیادہ وسیع پیمانہ پر قائم کیا جائے تقریر فرموده 25 اکتوبر 1936ء بر موقع مجلس شوری اندازہ لگایا گیا ہے کہ کل سات ہزار افراد تحریک جدید میں حصہ لیتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک قریباً اتنی رقم ادا کر دیتا ہے جتنی ایک ماہ کی آمد کی رقم اس کے ذمہ ڈالی جائے۔سالانہ جلسہ کا چندہ پندرہ فیصدی ڈالا جاتا ہے اور نہیں ہزار کے قریب آمد ہوتی ہے۔یہ 213 6 فیصدی بنتا ہے۔اس دفعہ کا چندہ تحریک جدید ایک لاکھ سترہ ہزار ہے اور کل سات ہزار آدمی ہیں جو یہ رقم ادا کر رہے ہیں دو سال سے ادا کر رہے ہیں اور تیسرے سال کے لئے ابھی میں نے روک دیا ہے کہ اعلان کرنے پر حصہ لیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مخلص کو مخاطب کیا جائے تو وہ سارا بوجھ اٹھالیتا ہے۔چندہ خاص جو جبری قسم کا ہے کہ مہینہ یا پندرہ دن کی تنخواہ دوا سے لمبا چلانا درست نہیں لیکن سب کمیٹی کی تجویز کے مطابق ہر سال چندہ خاص کرنا ضروری ہے کیونکہ آمد سے خرچ ہر سال بڑھ جاتا ہے۔اس طرح چندہ خاص ہر سال کا ہو جاتا ہے۔پھر کارکن بھی سست ہو جائیں گے کہ جو کمی رہے گی اس کے لئے چندہ خاص ہو جائے گا۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں علاج اور رنگ میں ہونا چاہئے۔قرضہ والی تجویز ایک بوجھ ہوگا اور کارکن مجبور ہوں گے کہ چستی سے کام لیں تاکہ قرض اتار سکیں مگر سوال یہ ہے کہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعہ موجودہ بوجھ کو دور کیا جاسکے؟ ہم اس کو دور کر سکتے ہیں بشرطیکہ جماعت سے مخلص اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اگر چوتھا حصہ بھی جماعت کا عمل کرے تو یقینی بات ہے کہ بوجھ اتر جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتیں بھی آمدنی سے نہیں چل رہیں بلکہ قرضوں پر چلتی ہیں۔انگریزوں کی حکومت اتنی بڑی ہے مگر وہ بہت بڑی مقروض بھی ہے اس کے مقابلہ کی یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی حکومت ہے وہ بھی مقروض ہے۔ہم بھی قرض لے سکتے ہیں لیکن ان میں اور ہم میں ایک فرق ہے، وہ سود دیتی ہیں مگر ہم سود نہیں دے سکتے۔یہاں دو بڑے بڑے بنکوں کے نمائندے اس لئے آئے کہ انہیں یہاں اپنے بینک کی شاخ کھولنے کی اجازت دی جائے اور صدرانجمن احمد یہ اپنا رو پید ان کے ہاں جمع کرائے اس طرح وہ صدر انجمن کو لا کھ دو لاکھ جس قدر ضرورت ہو قرض دے سکیں گے۔میں نے کہا: آپ لوگوں نے سود لینا 371