تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 368
اقتباس از تقریر فرمود : 23 اکتوبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول بھی کام بند نہ ہوگا کہ ان کے قائم مقام جو ان سے بہت زیادہ مخلص ہوں گے مل جائیں گے۔دیکھو! یہ کہیں نہیں آیا کہ ہم نے مومنوں کو روپیہ دیا ہے۔قرآن کریم میں ایسی چیزوں کا نام آتا ہے جن کو خدا نے بنایا ہے۔قرآن نے مال کا نام لیا ہے اور مال روپیہ کو نہیں کہتے بلکہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں " جسے ترقی دی جاسکے اور جس سے غلبہ حاصل ہو اور یہ چیز مومن کے پاس ہر وقت موجود ہوتی ہے۔پس میں جانتا ہوں کہ اگر ہمارا کوئی کام بند ہونے لگے تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ جاری رہے لیکن اگر اس کی مصلحت اسے بند ہی رکھنا چاہے تو پھر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں ہو گی مگر جسے ہم خود بند کریں اس کی ذمہ واری ہم پر عائد ہوگی۔“ میں نے جماعت سے دین کی خدمت کے لئے روپے مانگے اور وہ اس نے دے دیئے لیکن جب میں نے کہا کہ میں تمہارے بچوں کو زندگی دیتا ہوں تو اسے قبول نہ کیا گیا اور جہاں دو متضاد چیزیں جمع ہو جائیں وہاں ترقی کس طرح ہو سکتی ہے ؟ ہماری جماعت کے لوگوں نے پہلے سے زیادہ مالی قربانی کر کے گویا اپنے آپ کو ایک رنگ میں مار دیا اور اپنے بچوں کو بے کا ر رکھ کر موت لے لی اور اس طرح دو موتیں جمع ہو گئیں۔حالانکہ میں نے ان کو ایک حیات دی تھی اور وہ یہ کہ اپنے بچوں کو بے کار نہ رکھو، اسے انہوں نے چھوڑ دیا اور جو موت دی تھی وہ لے لی اور پھر کہا جاتا ہے کہ بچوں کے لئے کوئی کام نہیں ملتا۔قادیان میں ہی ایک محکمہ بے کاری کو دور کرنے کے لئے ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ہم نے یہاں کئی کارخانے جاری کئے ہیں مگر یہی سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے اور مزدوری تھوڑی ملتی ہے۔حالانکہ آوارگی اور بے کاری سے تو تھوڑی مزدوری بھی اچھی ہے۔یہ قدرتی بات ہے کہ کام سیکھنے والے سے کام خراب بھی ہو جاتا ہے اور اس طرح کام سکھانے والوں کو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے اس وجہ سے کام سیکھنے والوں کو کم مزدوری دی جاتی ہے، کل ہی کام سکھانے والے آئے تھے جو کہتے تھے کہ کام سیکھنے والے لڑکوں نے کام خراب کر دیا ہے۔طریق تو یہ ہے کہ کام سکھانے والے سیکھنے والوں سے لیتے ہیں مگر ہم تو کچھ نہ کچھ دیتے ہیں مگر پھر بھی کام نہیں سیکھتے۔حالانکہ اس وقت تک ہمارے پاس کئی ہندوؤں کی چٹھیاں آچکی ہیں کہ ہمارے بچوں کو اپنے کارخانوں میں داخل کر کے کام سکھائیے۔ولایت میں بھی کام سکھانے والے کام سیکھنے والوں سے لیتے ہیں مگر یہاں کہتے ہیں مزدوری کم ملتی ہے اور اس وجہ سے بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جبکہ میرا بتایا ہوا یہ گر استعمال نہیں کیا گیا تو آگے کیا امید ہو سکتی ہے کہ جو بات بتائی جائے گی اس پر عمل کیا جائے گا مگر 368