تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 25
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء جانتے ہیں کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔پس ایسی قربانی کا دعویٰ کرنا جسے کرنے والا نہ خود کر سکے اور نہ میں اس سے کوئی فائدہ اُٹھا سکوں۔وہی بات ہے کہ سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں۔پس اگر جماعت قربانی کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ماحول تیار کرے اور یہ بچوں اور عورتوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ میں نے کہا تھا کہ مسجد کے پہلو میں، جو جگہ عورتوں کے لئے پہلے ہوتی تھی آج وہ ان کے لئے پھر تیار کر دی جائے تا وہ سن لیں کہ سلسلہ کو قربانیوں کے لئے ان کی امداد کی کس قدر ضرورت ہے۔اگر قربانیاں نہ کر سکنے کی وجہ سے سلسلہ کی ترقی میں روک پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری عورتوں پر ہے۔بیسیوں مرد ایسے ہیں جن میں سے میں بھی ایک ہوں کہ عورتوں اور بچوں کے اخراجات پورے کرنے کے بعد جیب بالکل خالی ہو جاتی ہے اور حالت گر زرمی طلبی سخن درین است کی مصداق ہو جاتی ہے۔وہ اگر قربانی کا ارادہ بھی کریں تو کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس ہوتا ہی کچھ نہیں۔عام طور پر زیادہ خرچ عورتوں اور بچوں کا ہی ہے سوائے کسی ایسے بخیل کے جوان کو بھوکا رکھتا ہو یا ان کو آرام پہنچانے کا خیال نہیں رکھتا اور ایسے شخص سے ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں؟ پس ہم قربانی کیلئے اس بات کے سخت محتاج ہیں کہ عورتیں ہمارا ساتھ دیں وگرنہ ہماری قربانی لفظی قربانی رہ جائے گی اس لئے میں عورتوں کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قربانیوں کی طرف توجہ دیں اور ان امور میں جو میں آگے بیان کروں گا، مردوں کا ہاتھ بنائیں۔ان کے تعاون کے بغیر جوشخص قربانی کرنا چاہے گا وہ زبردستی ان کے اخراجات کو کم کرے گا اور اس طرح ایک تو وہ ثواب سے محروم رہ جائیں گی اور دوسرے گھر میں فسادر ہے گا۔ہماری مستورات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان سے پہلے ایسی مستورات گزری ہیں جنہوں نے ایسی ایسی قربانیاں کیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بہت صدقات کرتی تھیں اور اس وجہ سے ایک دفعہ ان کے بھانجے سے غلطی ہوئی اور اس نے کہا کہ ہماری خالہ یونہی روپیہ اڑا دیتی ہیں اور وارثوں کا کوئی خیال نہیں رکھتیں۔حالانکہ ان کے بھی حقوق شریعت نے رکھے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو ان کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے قسم کھائی کہ اس سے کبھی بات نہ کروں گی اور اگر کروں تو مجھ پر غلاموں کا آزاد کرنا فرض ہوگا۔لوگوں نے اُسے ملامت کی کہ تم نے ایسا کیوں کہا ہے معافی مانگو۔وہ معافی مانگنے گئے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہوئی ہے اس لئے ہر گز بات نہیں کروں گی۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ کیا کہ کئی آدمی اکٹھے ہو کر 25