تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 352

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 18 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جگہ دے گا اور آپ ایک طرف بیٹھ جائے گا لیکن نوکروں کی طرح وہ جوتیوں میں نہیں کھڑا ہوگا۔یہی چیز ہے جس کو پھر اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور یہی دنیوی بخت ہے۔جب یہ نہ ہو اور لکیریں کھینچ دی جائیں کہ تم برہمن ہو تم کشتری ہو، تم شودر ہو اس وقت محبت اور پیار نہیں رہتا اور جس کا داؤ چلتا ہے دوسرے کو ذلیل کر کے نکال دیتا ہے لیکن جب برادری قائم ہو جائے تو آپس کے تعلقات خراب نہیں ہو سکتے۔کوئی چھوٹا بھائی یہ کبھی نہیں کہتا کہ اپنے بڑے بھائی کو ماردوں کیونکہ گو وہ اپنے بڑے بھائی کا ادب کرتا ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ اپنے سکھ کو میرے لئے قربان کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر کچھ چھوٹے ہونے کی قیمت ادا ہو رہی ہے تو کچھ بڑے ہونے کی قیمت بھی ادا ہو رہی ہے۔چھوٹا سمجھتا ہے کہ گو یہ آگے بیٹھتا ہے اور میں پیچھے بیٹھتا ہوں لیکن جب باپ موجود نہ ہو تو اس کا فرض ہے کہ کما کر چھوٹے بھائیوں کو پالے یا وہ مصیبت میں ہوں تو یہ انہیں بچانے کیلئے جدو جہد کرے یا باپ کی عدم موجودگی میں ان کا حافظ و نگران ہو۔پس اس پر جو ادب کی قربانی ہے وہ گراں نہیں گزرتی۔وہ سمجھتا ہے کہ دونوں ہی اپنے مقام کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔وہ ایک طرح دے رہا ہے اور میں دوسری طرح دے رہا ہوں۔اسی طرح میاں بیوی کا تعلق ہے ، بیوی کھانا پکاتی ہے اور بظاہر وہ ایک ملازمہ نظر آتی ہے لیکن دوسرے موقع پر اس کا میاں اس کی ہر بات مان رہا ہوتا ہے اور بیوی مجھتی ہے کہ گو میں اس کا کام کرتی ہوں مگر اس کو بھی میری اطاعت کی قیمت دوسری طرح ادا کرنی پڑتی ہے۔خاوند اس پر روپیہ خرچ کرتا ہے، خاوند اس سے محبت و پیار کرتا ہے اور خاوند اس کی تکلیف میں کام آتا ہے۔پس بیوی اپنے آپ کو نو کر نہیں بجھتی بلکہ وہ کہتی ہے کہ اگر اپنے تعلق کی ایک قیمت میں ادا کر رہی ہوں تو میرا خاوند بھی اپنے تعلق کی قیمت ادا کر رہا ہے۔یہی اخوت کا تعلق ہوتا ہے جس میں تمام انسان ایک دوسرے کیلئے قربانیاں کرتے ہیں۔صرف عمل کے دائرہ میں اختلاف ہوتا ہے ورنہ ہوتی برابری ہی ہے۔یہ چیز ہے جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا ایک ذریعہ تحریک جدید ہے جس میں اپنے ہاتھوں سے کام کرنا، کھانے میں سادگی ، لباس میں سادگی اور رہائش میں سادگی رکھی گئی ہے اور یہ عارضی چیزیں نہیں بلکہ مستقل چیزیں ہیں اور دوستوں کا فرض ہے کہ جبر سے نہیں بلکہ پیار سے، محبت سے سمجھا کر ، دلائل دے کر لوگوں کو قائل کریں۔جب یہ باتیں ہماری جماعت کے قلوب میں راسخ ہو جائیں گی تو جب احمدیت کو بادشاہتیں ملیں گی اس وقت کے بادشاہ بادشاہ بن کر نہیں بلکہ بھائی بن کر حکومت کریں گے اور جہاں جائیں گے لوگ کہیں گے یہ ہمیں اٹھانے آئیں ہیں اور جس جس ملک میں بھی احمدیت پھیلے گی خواہ انگلستان میں پھیلے، خواہ جرمن میں، یہ وہاں کا نقشہ بدل کر رکھ دے 352