تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 348

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول گئی۔پس ایسے موقع پر اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ کھانا کھا لیتا ہے تو یہ اور بات ہے۔اس قسم کی ایک دعوت مجھے بھی ایک دفعہ پیش آئی ایک جگہ بہت سے غیر احمدی معززین کو بلایا گیا تھا اور انہیں مد نظر رکھتے ہوئے کئی کھانے تیار کئے گئے تھے ان معززین کی دلداری کے طور پر مجھے بھی ایک سے زائد کھانے کھانے پڑے۔ہاں جہاں بے تکلفی ہو وہاں دعوت کرنے والوں کو کہا جا سکتا ہے یا دوسرے مہمانوں کو بتایا جاسکتا ہے کہ ہم ایک ہی کھانا کھا ئیں گے زیادہ نہیں۔تو بعض دوست تحریک جدید کے اس مطالبہ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔درحقیقت میری غرض اس تحریک سے صرف عارضی فائدہ حاصل کرنا نہیں بے شک اس کا ایک عارضی فائدہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جو دوست تحریک جدید کے مالی مطالبات میں حصہ لیں انہیں ایک کھانا پکانے کی وجہ سے مالی تنگی محسوس نہ ہو اور ان کی بشاشت قائم رہے یہ ٹھیک ہے اور اس تحریک میں یہ ایک فائدہ بھی مد نظر ہے لیکن میری اصل غرض یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس اسلامی تمدن کو پھر قائم کریں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا۔یہ مستقل غرض ہے اور وہ عارضی ہے۔ہم جب تک اس مستقل غرض کو قائم نہیں کر دیتے اس وقت تک یقیناً ہم اسلام کی روح کو قائم نہیں کر سکتے۔اولیاء اللہ نے لکھا ہے کہ اعلیٰ روحانی ترقیات کے لئے کم کھانا کم بولنا اور کم سونا ضروری ہے اور کم کھانے سے سادہ زندگی کا بڑا تعلق۔زیادہ کھانے کھانے والوں کو یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کتنا کھا گئے۔حضرت خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیران کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے بھوک نہیں لگتی کوئی ایسا نسخہ بتائیے جس سے بھوک خوب لگے۔فرمایا ہم نے اس کا کچھ علاج کیا لیکن ایک دن ہمیں جو اس کے کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھا کہ چالیس کے قریب کھانے اس کے دستر خوان پر جمع ہیں وہ ایک ایک تھالی اُٹھاتا اور ہر تھالی میں سے ایک ایک لقمہ اس غرض کے لئے کھاتا جاتا کہ وہ چکھ کر دیکھے کہ ان میں سے کون سی چیز اچھی پکی ہے اور اپنے کھانے کے متعلق فیصلہ کرے، اس کے بعد اس نے دو چار کھانے پسند کر کے اپنے سامنے رکھ لئے اور چند لقمے کھا کر کہنے لگا: مولوی صاحب دیکھئے بالکل دل ہی نہیں چاہتا کہ کھاؤں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے اسے کہا کہ اب آپ کا اور کھانے پر کیا دل چاہے؟ چالیس لقمے تو آپ نے چکھنے کی خاطر کھائے ہیں۔حالانکہ عام طور پر انسان بتیس لقمے کھاتا ہے اور اس پر بھی آپ کو شکائت ہے کہ آپ کو بھوک نہیں لگتی ؟ تو زیادہ کھانے کھانے والوں کو یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ زیادہ کھا رہے ہیں کیونکہ پیٹ کا کچھ حصہ چکھنے سے بھر جاتا ہے اور باقی حصہ چند اور لقموں سے بھر جاتا ہے تو چونکہ پیٹ میں جتنی گنجائش ہوتی ہے اتنی غذا وہ کھا لیتا ہے اور کھانے ابھی سامنے پڑے ہوتے ہیں اس ہے 348