تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 24
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول معمولی معمولی آدمی دس دس اور پانچ پانچ ہزار مہر مقرر کرتے ہیں۔حالانکہ ان کی جائیداد میں اور آمد نیاں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔باہر سے ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ قادیان کے ایک آدمی نے مجھے کہا ہے کہ آپ کے گھروں میں دس پندرہ ہزار مہر مقرر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔بہر حال مہر حیثیت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ساتواں خرچ آرائش وزیبائش مکانات پر ہوتا ہے اگر کوئی شخص خود سادہ ہی رہنا چاہے تو بھی دوسروں کے لئے اس کو ایسا خرچ کرنا پڑتا ہے۔میں خود زمین پر بیٹھنے کا عادی ہوں اور زمین پر بیٹھ کر ہی کام کرتا ہوں سوائے اس کے جلدی میں کوئی خط لکھنا ہو پیڈ میز پر پڑا ہو اور وہیں بیٹھ کر لکھ دوں وگرنہ عام طور پر میں زمین پر بیٹھتا ہوں مگر مجھے کو چ وغیرہ بھی رکھنے پڑتے ہیں کیونکہ میرے پاس انگریز بھی آجاتے ہیں اور ایسے ہندوستانی بھی جو کوٹ پتلون پہنتے ہیں۔تو یہ بھی ایک خرچ ہے جو پہلے نہیں تھا اور اس پر بھی کافی رقم صرف ہو جاتی ہے۔آٹھواں خرج تعلیم کا ہے۔تعلیم بہت گراں ہو گئی ہے۔پہلے زمانہ میں مدارس کچھ نہیں لیتے تھے ، وہ مفت پڑھاتے تھے اور آسودہ حال لوگ ان کی خدمت کر دیتے تھے۔کتابیں بھی مدرسہ کی ہو تیں تھیں جو طالب علم تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد دوسروں کے لئے وہیں چھوڑ آتے تھے۔طالب علموں کے کھانے پینے کا خرچ عام طور پر شہر والے برداشت کر لیتے تھے اور بہت ہی کم ایسے طالب علم ہوتے تھے جنہیں اپنا انتظام کرنا پڑتا۔رہائش کے لئے مسجد کے ساتھ کو ٹھڑیاں وغیرہ بنی ہوتی تھیں مگر آج کل تعلیم بہت گراں ہے۔کالج میں لڑکا جاتا ہے تو چالیس سے لے کر ڈیڑھ سو تک ماہوار اس پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔بعض کا لجوں کے خرچ زیادہ ہوتے ہیں۔پھر بعض زیادہ تعلیموں پر زیادہ خرچ آتا ہے۔مثلاً میڈیکل اور سائنس کی تعلیم پر بہت خرچ ہوتا ہے بعض کا لجوں کی فیسیں زیادہ ہوتی ہیں اور اس طرح چالیس سے لے کر ڈیڑھ سو تک خرچ ہوتا ہے۔یہ ہندوستان کے عام کالجوں کے حالات ہیں بعض کا لجوں کے اور بھی زیادہ خرچ ہوتے ہیں اور یورپ میں تو تین سو سے لے کر پانچ سوروپیہ تک ماہوار خرچ ہوتا ہے لیکن نوکریوں کا یہ حال ہے کہ آخری عمر میں پہنچ کر شاید پانچ سوروپے تنخواہل سکے۔تو تعلیم بھی آج کل بہت گراں ہے۔ان اخراجات کی موجودگی میں اگر ہم یہ کہیں کہ ہمارا سب کچھ سلسلہ کے لئے قربان ہے تو اس کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ جو شخص عملاً کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے اس کا زبانی دعوی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔میں نے جب بھی وقف کی تحریک کی ہے تو میں نے دیکھا ہے کہ چند آدمی ضرور اپنا نام پیش کر دیتے ہیں۔حالانکہ وہ 24