تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 331

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 ستمبر 1936ء دشمنوں کے سارے حملوں کا علاج تحریک جدید میں موجود ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 1936ء ”میرے نزدیک اس زمانہ میں صحیح طریق جذبات کے اظہار کا یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر جماعت کے دوستوں کو تحریک جدید کی طرف توجہ دلائی جائے۔دشمنوں کے سارے حملوں کا علاج تحریک جدید میں موجود ہے۔پس انہیں بتایا جائے کہ جس قدر کرنے والی باتیں ہیں وہ تمہارے امام نے تمہیں بتادی ہیں کیا تم نے ان باتوں پر عمل کر لیا؟ اگر کیا ہے تو اور کرو اور اگر نہیں کیا تو ان پر جلدی عمل کرو کہ انہی باتوں میں ان تمام فتن کا علاج ہے۔پس تحریک جدید کے مختلف پہلو جو قربانیوں کے ہیں انہیں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور انہیں توجہ دلائی جائے کہ جنہوں نے ابھی تک اس تحریک پر عمل نہیں کیا وہ عمل کریں۔یہ ایک صحیح ذریعہ قربانی پیش کرنے کا ہوگا مگر اس قربانی کا دعوی کرنا جس قربانی کا مطالبہ ہی نہ ہو پا جس قربانی کی نوعیت پر خود بھی غور نہ کیا ہو انسان کو نکما بنا دیتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگا دیتا ہے۔ایک شخص جو جانتا ہی نہیں کہ کیا کریں گے؟ وہ اگر کہتا ہے ہم مر جائیں گے ، ہم مٹ جائیں گے، ہم مٹادیں گے، ہم ہلا دیں گے، ہم دکھا دیں گے، ہم بتا دیں گے تو وہ بے ہودہ اور لغو دعوے کرتا ہے۔وہ نہ خود جانتا ہے کہ کس طرح ہلا دیں گے اور نہ وہ جانتے ہیں جو اس کی تقریر سُن رہے ہوتے ہیں کہ کس طرح ہلا دیں گے؟ صرف اپنے ہی دل میں وہ دونوں ہل رہے ہوتے ہیں۔تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ تمہارے سامنے جو پروگرام رکھا گیا ہے اور جو تمہارے امام نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے اس پر عمل کرو اور لوگوں کو بتاؤ کہ یہ حملے اس لئے ہورہے ہیں کہ تم سکیم کے فلاں فلاں حصے پر عمل نہیں کرتے پھر اس حصہ کے متعلق دلائل دو اس کی تفصیلات بیان کرو، اس کے نتائج اس کی خوبیاں اور اس کے اثرات واضح کرو اور لوگوں کو توجہ دلاؤ کہ جب وہ قربانیوں کے لئے تیار ہیں تو کیوں تحریک جدید کے ماتحت قربانیاں نہیں کرتے ؟ یہ وہ قربانی کی تحریک ہے جو جائز اور مفید ہے۔پس ایک مفصل سکیم تمہارے سامنے موجود ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ خالی جذبات کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔پس یہاں کا جلسہ ریزولیوشن اور اظہار اخلاص کی حد تک جائز ، مفید اور موجب ثواب تھا لیکن اس سے زائد اگر کوئی خالی وعدے کئے گئے ہیں تو وہ بے فائدہ تھے۔قربانی کے لئے 331