تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 325

یک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 1936ء چاہتی ہیں۔کہیں ہاتھی نکلتے ہیں اور وہ مجھے ڈراتے ہیں، کہیں چیتے نکلتے ہیں اور مجھے ڈراتے ہیں، کہیں خالی سر آ جاتے ہیں اور مجھے خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کہیں بغیر سروں کے دھڑ آجاتے ہیں۔غرض عجیب عجیب رنگوں اور عجیب عجیب شکلوں میں وہ مجھے ڈراتے اور میری توجہ اپنی طرف پھرانا چاہتے ہیں مگر جب میں کہتا ہوں ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ تو وہ سب شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔غرض اسی طرح میں چلتا چلا گیا۔یہاں تک کہ منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔تو در حقیقت اس قسم کے لوگوں کی باتوں کو سن کر اس فکر میں پڑ جانا کہ فلاں نے فلاں پر یہ اعتراض کیا ہے فضول بات ہے۔مومن کا کام یہ ہے کہ جب وہ اس قسم کی کوئی بات سنے تو ذمہ دار لوگوں تک اسے پہنچا دے مگر یہ کہ منافق جن لوگوں پر الزام لگائے ان الزامات کی تحقیق کی جائے یہ بے وقوفی کی بات ہے۔اگر واقعہ میں انہیں کوئی اعتراض ہے اور وہ منافق نہیں تو کیوں وہ اس طریق کو اختیار نہیں کرتے جو شریعت نے مقرر کیا ہے؟ گھروں میں بیٹھ کر باتیں کرنے اور دوسروں پر اعتراض کرنے کا مطلب ہی کیا ہے؟ پس ہر دوست کو اس طرف سے بالکل آنکھیں بند کر کے فیصلہ کر لینا چاہئے کہ میں ہی ہوں جس نے یہ کام کرنا ہے خواہ میرے بیوی، بچے ، عزیز، دوست اور رشتہ دار سب مجھے چھوڑ دیں، مجھے ان کی کوئی پروانہیں میں خود اس کام کو کروں گا اور جب دوست اس قسم کا پختہ ارادہ کر لیں گے تو خود بخود کام میں سہولتیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔اب تک جو کام ہوا ہے کیا وہ ہماری تدبیروں کا نتیجہ ہے؟ میں تو جب اس زمانہ کی جماعت پر نگاہ دوڑاتا ہوں جب خلافت کا کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا اور آج کی جماعت کو دیکھتا ہوں تو میں خود جس کے ہاتھ سے یہ سب کام ہوا اپنے ذہن میں اسے ایک خواب سمجھتا ہوں۔آج ہماری طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلی طاقت سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے، آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم سینکڑوں گنے زیادہ وسیع علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ بیسیوں تو میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی نہیں جانتی تھیں آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ان میں ہماری جماعتیں قائم ہیں۔پس میں تو اس ترقی پر جب نگاہ ڈالتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک خواب ہے اور میری اس حالت کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے وہ رات دیکھی ہے جس سے پہلے دن حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اس رات مولوی محمد علی صاحب نے ایک ٹریکٹ تمام جماعت میں تقسیم کیا جس میں لکھا تھا کہ آئندہ کسی خلیفہ کی کوئی ضرورت نہیں صرف ایک پریذیڈنٹ ہونا چاہئے اور وہ بھی چالیس سال سے اوپر کی عمرکا اور پھر وہ بھی ایسا جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔ادھر ہمیں یہ نظر آتا تھا کہ جماعت کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے، 325