تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 323

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء وہ چندے میں سستی کرتا ہے اور جب اُسے کہا جائے کہ ستی مت کرو تو وہ کہتا ہے کیا فلاں شخص چندہ دینے میں ستی نہیں کرتا؟ اور اکثر اوقات جب وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص چندہ دینے میں ستی نہیں کرتا، وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اور محض اپنے آپ کو بچانے کے لئے دوسروں کو عیب سے ملوث کرتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے میرے متعلق ایک اعتراض چھپوایا ، وہ منافق کی مثال نہیں بلکہ دشمنوں میں سے ایک شخص کی مثال ہے اور گو منافقوں کی مثالیں بھی میں دے سکتا ہوں مگر شاید اس طرح ان کا نام ظاہر ہو جائے جو ابھی میں ظاہر کرنا نہیں چاہتا، کہ انہوں نے خلافت سے بہت ساروپیہ کمایا ہے۔چنانچہ ان کو صرف جلسہ سالانہ پر پچاس ہزار روپیہ نذر کا آتا ہے۔ایک دوست نے جب مجھے یہ اعتراض سنایا تو میں نے انہیں کہا اُسے کہہ دیں کہ وہ آکر ٹھیکہ لے لے اور جتنا روپیہ نذر کا اکٹھا ہو اُس میں سے نو حصے آپ رکھ لیا کرے اور ایک حصہ مجھے دے دیا کرے۔گو اس ایک حصہ میں سے بھی بہت سا روپیہ میں جماعت کے کاموں پر ہی خرچ کروں گا مگر پھر بھی مجھے اس ٹھیکہ میں نفع رہے گا۔پس اُسے کہو کہ وہ اس شرط پر ٹھیکہ لے لے کہ وہ پانچ ہزار تو مجھے دے دیا کرے اور جس قدر نذرانہ آئے وہ خود کھ لیا کرے میں سمجھتا ہوں کہ اس کا اکثر حصہ دینی ضروریات پر خرچ کر کے پھر بھی مجھے نفع ہی رہے گا۔غرض منافق اور دشمن ہمیشہ اپنے پاس سے باتیں بیان کرنی شروع کر دیتے ہیں اور کئی دوست انہیں سُن کر گھبرا جاتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں کی نسبت وہ یہ کہتا تھا اور فلاں کی نسبت یہ۔بھلا جو خدا سے اخلاص نہیں رکھتا وہ اپنے بھائی سے کیا اخلاص رکھ سکتا ہے؟ حضرت خلیفہ اسیح اول سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بخاری لے دیں۔فرمانے لگے میں نے اُسے کہا کہ مجھے اس وقت توفیق نہیں۔وہ کہنے لگا یہ بھی کوئی بات ہے کہ آپ کو توفیق نہ ہو آپ صاف طور پر یہی کہہ دیں کہ میں لے کر نہیں دینا چاہتا۔فرمانے لگے کیوں؟ وہ کہنے لگا سیدھی بات ہے حضرت مرزا صاحب کے دو تین لاکھ مرید ہیں اگر وہ مرزا صاحب کو ایک ایک روپیہ نذرانہ دیتے ہوں تو دولاکھ روپیہ نذرانہ کا انہیں آجاتا ہوگا اور اگر وہ چاہے چار آنے بھی آپ کو نذرانہ دیں تو پچاس ہزار روپیہ نذر کا تو آپ کو ہر سال مل جاتا ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول فر ماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا پہلے تم بتاؤ کہ آج تک تم نے مجھے کتنی چونیاں دی ہیں؟ جس قدرتمہاری طرف سے چونیاں پہنچی ہیں وہ گنا دو اور پھر اس پر دوسروں کا قیاس کر لو۔اس پر وہ خاموش ہو کر چلا گیا۔تو منافق آدمی ہمیشہ دوسروں کے متعلق بے بنیاد باتیں کرتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں 323