تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 322

خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس نے کیا کیا؟ جو شخص اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے اس کا حق ہے کہ وہ کہے باقی لوگوں نے کیا کیا؟ اور وہ کیا کرتے ہیں؟ بشر طیکہ یہ اعتراض جائز ہو کیونکہ بعض حالات میں بعض کے لئے قربانی کا زیادہ موقع ہوتا ہے اور بعض کے لئے کم اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے حصول کے لئے قربانی کرنے والے ہوتے ہیں وہ اعتراض کم کرتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔حدیثوں میں اس کی ایک مثال بھی آتی ہے حضرت ابو بکر ہمیشہ قربانی میں دوسروں سے بڑھے ہوئے رہتے مگر ان کو کبھی دوسروں کی قربانی دیکھ کر یہ خیال نہ آتا کہ وہ کم ہے لیکن کم قربانی کرنے والوں کو ضرور خیال آجاتا کہ ان کی قربانی زیادہ ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا مطالبہ کیا حضرت عمر نے کہا حضرت ابو بکر قربانی میں ہمیشہ بڑھ جاتے ہیں اب کی دفعہ میں انہیں شکست دوں گا۔اس وقت تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی جو مالی قربانی تھی وہ نصف کے قریب نہیں پہنچی تھی اور جب بھی گھر سے مال لاتے نصف سے کم ہوتا۔حضرت عمر نے کہا میں اب کے اپنا نصف مال لے جاؤں گا اور ان کو شکست دوں گا مگر جب وہ اپنے گھر کا نصف مال لئے چلے آرہے تھے تو انہوں نے دیکھا حضرت ابو بکر پہلے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے ہوئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کو جو چندہ کے طور پر ابو بکر لائے تھے دیکھ کر حیرت کے ساتھ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ابوبکر " کیا تم نے اپنے گھر میں بھی کچھ چھوڑا؟ اور حضرت ابو بکر جواب میں عرض کر رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کا نام گھر میں باقی ہے اور تو کچھ نہیں۔حضرت عمر نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ کہنے لگے اس شخص کو شکست دینا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس واقعہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دو کمال ظاہر ہوتے ہیں: ایک یہ کہ وہ قربانی میں سب سے آگے بڑھ گئے اور دوسرے یہ کہ باوجود اپنا سارا مال لانے کے پھر سب سے پہلے پہنچ گئے اور جنہوں نے تھوڑا دیا تھا وہ اس فکر میں ہی رہے کہ کتنا گھر میں رکھیں اور کتنالا ئیں ؟ مگر باوجود اس کے حضرت ابو بکر کے متعلق یہ کہیں نہیں آتا کہ انہوں نے دوسروں پر اعتراض کیا ہو۔حضرت ابو بکر قربانی کر کے بھی یہ سمجھتے تھے کہ ابھی خدا کا میں دین دار ہوں اور میں نے کوئی اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں کیا بلکہ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے خدمت کی توفیق دی لیکن منافق خود تو کوئی قربانی نہیں کرتا البتہ دوسروں کی قربانیوں پر اعتراض کرتا چلا جاتا ہے، وہ گالیاں دیتا ہے اور جب اُسے کہا جائے کہ گالی مت دو تو وہ کہتا ہے فلاں نہیں گالی دیتا؟ وہ چغلی کرتا ہے اور جب اُسے کہا جائے کہ چغلی مت کرو تو وہ کہتا ہے کیا فلاں چغلی نہیں کرتا؟ اور باوجود اس شدید عیب کے وہ سمجھتا ہے کہ وہ صلح ہے اور دعوی کرتا ہے کہ وہ دین دار ہے اسی طرح 322