تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 321

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اؤل خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 1936ء پس قربانی کا معیار اسی جگہ پہنچ کر رہے گا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچا جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچا اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہنچا مگر چونکہ کمزوروں اور ناطاقتوں کو اُٹھانا بھی ایمان کا حصہ ہے اس لئے امام کا فرض ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ قربانیوں کا مطالبہ کرے اور زیادہ سے زیادہ جماعت کو بچائے۔پس جماعت کے تمام مخلصین کو اس دن کا انتظار کرنا چاہئے جب اگلی قربانی کا ان سے مطالبہ کیا جائے۔بے شک اپنے دلوں میں فیصلہ انہیں آج سے ہی کر لینا چاہئے مگر عمل اسی دن ہونا چاہئے جس دن امام کی آواز ان کے کانوں میں پہنچے کیونکہ : الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقْتَلُ مِنْ وَرَآئِهِ اسی طرح بہت دوستوں نے میرے اس اعلان سے گھبرا کر تیسرے سال کے لئے وعدے کرنے شروع کر دیئے ہیں میں ان دوستوں کے اخلاص پر بھی جزاکم اللہ احسن الجزاء کہتے ہوئے ان کو تنبیہ کرتا ہوں کہ ابھی میری طرف سے تیسرے سال کی قربانیوں کا مطالبہ نہیں ہوا۔ان کو کیا معلوم کہ میں پہلے سے اب کی دفعہ کس قدر زیادہ مطالبہ کروں گا؟ یا قربانی کا کس رنگ میں مطالبہ کروں گا ؟ پس ان کو بھی اس دن کا انتظار کرنا چاہئے جب تیسرے سال کی قربانیوں کے متعلق میری طرف سے اعلان ہو پھر جب اعلان ہو جائے تو اس کے مطابق وہ وعدے کریں فی الحال دوستوں کو اس کوشش میں لگ جانا چاہئے کہ جہاں جہاں جماعتوں نے وعدے پورے کرنے میں سستی دکھائی ہے وہاں کی جماعتوں کو سستی کے دور کرنے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔میری پہلی مخاطب جماعت قادیان ہے مگر مجھے معلوم نہیں کہ اس نے اپنے وعدوں کے پورا کرنے میں سنتی دکھائی ہے یا چستی؟ اگر انہوں نے چستی دکھائی ہے تو انہیں مزید چستی کی ضرورت ہے اور اگر انہوں نے سستی کی ہے تو انہیں اپنی ستی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور پچھلے دونوں سالوں کے بقائے بھی ادا کرنے چاہئیں یہاں تک کہ نومبر میں جب تیسرے سال کی قربانیوں کے متعلق اعلان کیا جائے تو ان کی طرف سے کوئی بقایا نہ ہو اور وہ اپنے وعدوں کو پورا کر چکے ہوں۔پھر ساتھ ہی میں دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید کے دوسرے حصوں کو بھی یا درکھنا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جوں جوں اس تحریک پر جماعت کے لوگ عمل کرتے جا رہے ہیں کمزور اور منافق طبقہ گھبرارہا اور زیادہ سے زیادہ اعتراض کرتا جارہا ہے کہ فلاں نے یوں کیا اور فلاں نے یوں کیا حالانکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں نے یوں کیا اور فلاں نے یوں، وہی تو منافق ہوتا ہے 321