تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 21

خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء ایک الہی تحریک جلد اول کرنے کے لئے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور نہ کنبہ دار مرد عام طور پر اپنی ذات پر پانچ دس فیصدی سے زیادہ خرچ نہیں کرتے اور باقی نوے پچانوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس لئے بھی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ ان کے آرام کا مرد زیادہ خیال رکھتے ہیں۔پس ان حالات میں مرد جو پہلے ہی پانچ یا دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس فیصدی اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں اور جن کی آمدنی کا استی نوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے اگر قربانی کرنا بھی چاہیں تو کیا کر سکتے ہیں جب تک عورتیں اور بچے ساتھ نہ دیں؟ اور جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ ہم ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ مرد قربانی کر سکیں۔پس تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قربانی کے لئے پہلے ماحول پیدا کیا جائے اور اس کے لئے ہمیں اپنے بیوی بچوں سے پوچھنا چاہئے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے یا نہیں ؟ اگر وہ ہمارے ساتھ قربانی کے لئے تیار نہیں ہیں تو قربانی کی گنجائش بہت کم ہے۔مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کا بھی یہی حال ہے۔جسم کو تکلیف پہنچانا کس طرح ہو سکتا ہے جب تک اس کے لئے عادت نہ ڈالی جائے جو مائیں اپنے بچوں کو وقت پر نہیں جگاتیں، وقت پر پڑھنے کے لئے نہیں بھیجتیں، ان کے کھانے پینے میں ایسی احتیاط نہیں کرتیں کہ وہ آرام طلب اور عیاش نہ ہو جائیں، وہ قربانی کیا کر سکتے ہیں؟ عادتیں جو بچپن میں پیدا ہو جائیں وہ نہیں چھوٹتیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ بہت بڑے ایمان سے دب جاتی ہیں مگر جب ایمان میں ذرا بھی کمی آئے پھر عود کر آتی ہیں۔پس جانی قربانی بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ متحد نہ ہوں جب تک ما ئیں متحد نہیں ہوں گی تو وہ روز ایسے کام کریں گی جن سے بچوں میں سستی اور غفلت پیدا ہو۔پس جب تک مناسب ماحول پیدا نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ہماری مالی قربانی ہوائے کمزوروں کے موجودہ ماحول کے لحاظ سے انتہائی حد تک پہنچی ہوئی ہے اور جب تک ماحول تبدیل نہ ہو اور بیوی بچوں کو ساتھ شامل نہ کیا جائے اُس وقت تک مزید قربانیوں کا دعوی پورا نہیں ہوسکتا۔موجودہ حالات کے لحاظ سے اگر کوئی زیادہ سے زیادہ قربانی کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مقروض ہو جائے گا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس کا اثر اس کی جائیداد پر پڑے گا اور اس طرح جتنی قربانی وہ پہلے کرتا تھا وہ بھی کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ایسی قربانی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی ایک ہاتھ والا انسان ایک طرف سے ہاتھ کاٹ کر دوسری طرف لگانا چاہے دوسری طرف ہاتھ تو کیا لگے گا دوسرا ہاتھ بھی وہ کھو بیٹھے گا۔پس اگر ماحول کے بغیر قربانی کی جائے تو قربانی کرنے والا یقینا مقروض ہو جائے گا 21