تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 316
خطبہ جمعہ فرمود : 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول در حقیقت بہت سی رقم جو جمع ہوئی ہے وہ افراد کی طرف سے جمع ہوئی ہے ورنہ بہت سی جماعتیں ایسی پائی جاتی ہیں جنہوں نے بحیثیت جماعت نہایت سستی اور غفلت دکھائی ہے میں ان جماعتوں کو ستمبر تک کی مہلت دیتا ہوں کہ وہ ستمبر تک اپنے بقائے پورے کرنے کی کوشش کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے دوست ہی ستمبر تک بقائے ادا کر دیں کیونکہ مہلتیں بعض کی نومبر تک ، بعض کی جنوری تک اور بعض کی اس سے بھی بعد تک ہیں لیکن بہر حال جس حد تک حصہ ان کی طرف سے اس وقت تک پہنچ جانا چاہئے اپنی اپنی رقم کے مطابق وہ اس کو ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں ورنہ اطلاع دیں کہ کیوں اس وعدے کو پورا کرنے پر وہ قادر نہیں ہو سکے جو طوعی طور پر انہوں نے کیا تھا؟ اور جس کے متعلق کوئی جبران پر نہیں کیا گیا تھا۔میں بتا چکا ہوں کہ تدریجی طور پر جماعت کو قربانی کے میدان میں اب آگے سے آگے بڑھنا ہو گا۔ذاتی طور پر مجھے اس بات کا قطعاً درد محسوس نہیں ہو سکتا اگر ہماری جماعت موجودہ تعداد سے گھٹ کر آدھی رہ جائے یا چوتھا حصہ رہ جائے یا اس سے بھی زیادہ گر جائے کیونکہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ مخلصین وہ کچھ کر سکتے ہیں جو تعداد نہیں کر سکتی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع بتائے ہوئے ہیں کہ جن کے ماتحت چند آدمیوں کے ذریعہ بھی ساری دنیا میں اسلام قائم کیا جا سکتا ہے لیکن ان ذرائع کو استعمال کرنے کے اوقات ہوتے ہیں۔خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ تجھے اور تیری قوم کو کنعان کی حکومت دی جاتی ہے۔بنی اسرائیل نے آگے سے کہ دیا: فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ (المائدة: 25) جاموئی تو اور تیرا رب لڑتے پھر وجب فتح ہو جائے گی تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے اُس وقت تک تو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔موسی اور اس کا خدا اکیلے رہ گئے مگر باوجود اس کے کنعان پھر بھی فتح ہوا اور کنعان پر تیرہ سو سال تک بنی اسرائیل نے حکومت کی۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جب صلیب کا واقعہ پیش آیا حواری سب بھاگ گئے بلکہ ایک حواری نے تو آپ پر لعنت بھی کی اور کہا: میں نہیں جانتا یہ کون ہے؟ یہ سب کچھ ہوا مگر کیا عیسائیت دنیا میں نہیں پھیلی؟ کیا وہ یونہی رک کر رہ گئی ؟ پس میں اس یقین پر قائم ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جو شخص اس یقین پر قائم رہے گا وہی اپنے ایمان کو سلامت لے کر نکلے گا کہ سلسلہ افراد کی تعداد پر قائم نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے۔جس شخص کے دل میں یہ خیال ہو کہ ہر گندی چیز کو ہم سمیٹیں اور رکھ لیں وہ نہ سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے اور نہ سلسلہ کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے۔میرا مطلب یہ نہیں کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے جس کو خدا تمہارے پاس بھیجے اس کو نکالو۔یہ خود ایک 316