تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 315
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء سلسلہ احمدیہ افراد کی تعداد پر قائم نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کھانسی اور گلے کی تکلیف کی وجہ سے میرے لئے بلند آواز سے بولنا بالکل جائز نہیں لیکن چونکہ بخار میں تخفیف ہے اور دو جمعے درمیان میں میں یہاں خطبہ نہیں پڑھا سکا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ تکلیف اُٹھا کر بھی آج خطبہ جمعہ خود پڑھاؤں۔میں نے چند جمعے ہوئے غالباً 7 اگست کو جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تحریک جدید کے چندہ کے متعلق میں بعض دوستوں میں سستی اور غفلت دیکھتا ہوں۔حالانکہ اس چندہ کی تحریک طوعی تھی جبری نہ تھی یعنی ہر شخص کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی کہ مطابق اس چندے میں شامل ہو یا نہ ہو۔صرف تحریک کی جاتی تھی اور ہر شخص کو اس میں شامل ہونے کا پابند نہیں بنایا جاتا تھا۔اس ستی کو دیکھ کر یہ خطرہ بھی ہوسکتا تھا کہ یہ چیز تو ہمارے سامنے آجاتی ہے مگر اس تحریک کے وہ دوسرے حصے جو سامنے نہیں آتے ممکن ہے دوست ان میں بھی مستیاں کر رہے ہوں۔مثلاً ایک کھانا کھانے کی تحریک ہے یا سادہ لباس کی تحریک ہے یا بے کار نہ رہنے کی تحریک ہے یا تبلیغ کی تحریک ہے، ان ساری قسم کی تحریکوں کے متعلق قدرتی طور پر یہ شبہ پیدا ہونا لازمی ہے کہ شاید ان میں بھی کسی قسم کی مستی ہو رہی ہے۔میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں جماعت میں ایک اصلاح تو ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ چندہ کی رفتار پہلے سے بڑھ گئی ہے اور اس خطبہ کے بعد اس وقت تک جو دس اور گیارہ ہزار کے درمیان پچھلے سال اور اس سال کے چندہ میں فرق تھا وہ کوئی ساڑھے چھ ہزار کے قریب آگیا ہے۔گویا چار یا ساڑھے چار ہزار روپیہ کی کی کو دوستوں نے پورا کیا ہے لیکن ابھی تک جماعت کے تمام افراد میں وہ تحریک پیدا نہیں ہوئی جو ہونی چاہئے تھی۔جن جن افراد نے علیحدہ طور پر چندے لکھوائے ہیں انہوں نے زیادہ جوش سے چندے ادا کئے ہیں لیکن جماعتی چندوں میں ابھی بہت کچھ کمی ہے۔میں الفضل“ کی کسی قریب کی اشاعت میں بعض بڑی جماعتوں کی لسٹ شائع کروں گا تا کہ ان جماعتوں کو توجہ ہو۔315