تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 312
خطبہ جمعہ فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول بڑھنے کو کیا ہو گیا کہ خدا تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ اسلام ترقی کرے گا اور جوق در جوق لوگ اس میں داخل ہوں گے اور یہ روتا ہے؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نکتہ کو سمجھ گئے یعنی آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ حضرت ابوبکر نے آیت کا مفہوم سمجھ لیا ہے اس لئے آپ ﷺ نے ان کی تسلی اور دلجوئی کے لئے فرمایا: ابوبکر مجھے اتنے پیارے ہیں، اتنے پیارے ہیں کہ اگر کسی بندے کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکر " کو بناتا لیکن یہ اسلام میں میرے بھائی ہیں پھر فرمایا مسجد میں جس قدر کھڑکیاں کھلتی ہیں سب بند کر دی جائیں مگر ابو بکر کی کھڑ کی کھلی رہے اس میں آپ ﷺ نے اس طرف اشارہ کر دیا کہ میرے بعد یہی امام ہوں گے اور انہیں چونکہ نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں آنا پڑے گا اس لئے ضروری ہے کہ ان کی کھڑ کی مسجد کی طرف کھلی رہے۔تو مومن جب اپنا کام ختم کر لیتا ہے تو وہ بالکل دنیا میں رہنا نہیں چاہتا۔دیکھو! جب کوئی شخص اپنے بیوی بچوں سے جدا ہو کر غیر ملک میں جاتا ہے تو جب اس کا کام ختم ہو جاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے۔جب بیوی بچوں کی محبت اپنے اندر اتنی کشش رکھتی ہے کہ جب تک اُسے فرض منصبی رو کے رکھتا ہے وہ رکا رہتا ہے لیکن جب اس کا کام ختم ہو جاتا ہے وہ ان کے ملنے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی محبت اپنے اندر کس قدر کشش رکھتی ہوگی ؟ یہی وجہ ہے کہ مومن جب تک دنیا میں اپنے فرائض منصبی میں مشغول رہتا ہے وہ مجبوراً اپنے محبوب خدا سے دور رہنا برداشت کر لیتا ہے لیکن جب وہ اپنے فرائض منصبی کو پورا کر لیتا ہے اس وقت وہ ایک منٹ بھی دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ اُڑے اور خدا کے پاس پہنچ جائے۔ہاں جب تک اس کا فرض منصبی پورا نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ میں مجبور ہوں کیونکہ میرے آقا کا حکم یہی ہے کہ میں دنیا میں کام کروں مگر کام کے ہو جانے کے بعد وہ ایک منٹ بھی دنیا میں ٹھہر نا پسند نہیں کرتا۔پس جب تک دنیا میں اسلام کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی میرا اور جماعت کا کام ختم نہیں ہوسکتا اور جن کی زندگیوں میں بھی یہ کام ختم ہو گیا کیونکہ ضروری نہیں کہ ہماری زندگیوں میں ہی یہ کام پورا ہو ، وہ اس دنیا میں رہنا پسند نہیں کریں گے بلکہ ان کی روحیں اُڑیں گی اور خدا سے جاملیں گی اور پھر نئی پود کو نیا کام سپرد کیا جائے گا۔در حقیقت لوگوں نے اس بات کو سمجھا نہیں کہ آخرت کے انعامات کی کیا اہمیت ہے؟ انہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے اسی لئے وہ اس کی ذرہ ذرہ سی بات پر مرتے ہیں۔حالانکہ دنیا ایک میدان جنگ ہے جہاں شیطان سے لڑائی جاری ہے کوئی شخص پسند نہیں کر سکتا کہ وہ ساری عمر لڑتا ہی رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ لڑائی سے جلد فارغ ہو کر اپنے گھر آئے۔پس جس طرح میدان جنگ عارضی 312