تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 309

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء کافی ثابت نہ ہوئی تو چالیس بلکہ پچاس فی صدی کمی کر دی جائے گی۔صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن پہلے سے کام کر رہے ہیں یا وہ کارکن جنہوں نے اس تحریک جدید پر کام شروع کیا ہے، میں آج سے ان سب کو ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی تنخواہوں میں یہ کی منظور نہ ہو تو وہ بے شک اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر لیں۔مجھے یقین ہے کہ پانچ یا دس دفعہ بھی اگر مجھے آدمی بدلنے پڑے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نئے آدمی بھیجتا چلا جائے گا اور وہ کام پورا ہو کر رہے گا جس کے کرنے کا ذمہ ہم نے اُٹھایا ہوا ہے اور جس کو تکمیل تک پہنچانے کا فرض ہم پر عائد کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا نام انبیاء علیہم السلام نے شیطان کی آخری لڑائی کا زمانہ رکھا ہے۔اس لڑائی کی آگ میں جب تک ہم اپنی ہر چیز جھونکتے نہ جائیں گے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔شاہ جہاں کی نسبت آتا ہے اس کی بیوی نے مرنے سے پہلے خواب دیکھا کہ میں مرگئی ہوں اور میری قبر پر بادشاہ نے ایسا ایسا مقبرہ بنایا ہے ، یہ وہی مقبرہ ہے جسے آج کل تاج محل کہتے ہیں اور آگرہ میں ہے، اس نے بادشاہ کے پاس ذکر کیا وہ چونکہ بیمار تھی اور بادشاہ کو اس کی دلجوئی مد نظر تھی اس لئے اس نے بڑے بڑے انجینئر زبلائے اور کہا کیا اس قسم کی عمارت تم بنا سکتے ہو؟ سب نے کہا یہ تو کسی جنت کی عمارت کا نقشہ ہے ہم اسے تیار نہیں کر سکتے۔آخر ایک انجینئر آیا اور اُس نے کہا بادشاہ سلامت ایسی عمارت بن سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر جمنا کے دوسرے کنارے چلیں اور ہزار ہزار روپیہ کی دوستھیلیاں اپنے پاس رکھوالیں تجویز میں بتادوں گا اور وہ جگہ بھی بتا دوں گا جہاں اس قسم کا مقبرہ بن سکتا ہے۔بادشاہ نے حکم دیا جس پر فوراً ہزار ہزار روپیہ کی دوسو تھیلیاں خزانہ سے آ گئیں۔اس نے ان تھیلیوں کو کشتی میں رکھا اور انجینئر کے ساتھ سوار ہو کر جمنا کے دوسرے کنارے جانے کے لئے روانہ ہو گیا۔کشتی تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ اس انجینئر نے ایک تھیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہوگا بادشاہ نے کہا کوئی حرج نہیں۔دو قدم کشتی آگے بڑھی تو پھر اس نے ایک تھیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ لگے گا، بادشاہ نے کہا کوئی پروا نہیں۔تھوڑی دور آگے چلے تو اس نے تیسری تحصیلی دریا میں پھینک دی اور پھر چوتھی اور پھر پانچویں یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ہزار ہزار روپیہ کی دوسو تھیلیاں اس نے دریا میں پھینک دیں اور ہر دفعہ وہ یہی کہتا گیا کہ بادشاہ سلامت یوں روپیہ خرچ ہو گا بادشاہ بھی یہی کہتا رہا کہ پروا نہیں تم عمارت تیار کرو۔جب وہ انجینئر جمنا کے دوسرے کنارے پہنچا تو کہنے لگا بادشاہ سلامت مقبرہ بن سکتا ہے اور یہ جگہ ہے جہاں مقبرہ بنے گا۔بادشاہ نے کہا آخر وجہ کیا ہے کہ دوسروں نے کہا ایسا مقبرہ نہیں بن سکتا 309