تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 19
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔پس دوسروں کے کام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ سکیم کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔میرا کام صرف یہ ہے کہ جب دیکھوں کہ اسلام یا سلسلہ کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے یا وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کے ازالہ کے لئے قدم اُٹھاؤں قطع نظر اس سے کہ کوئی میرے ساتھ شامل ہوتا ہے یا نہیں۔تیسری بات جو تمہیدی طور پر میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ کوئی بڑی قربانی نہیں کی جاسکتی جب تک اس کے لئے ماحول نہ پیدا کیا جائے۔اچھا پیج ایسی جگہ جہاں وہ آگ نہیں سکتا یا ایسے موسم میں جب وہ پیدا نہیں ہوتا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور اسے اُگانے کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ محنت ضائع جائے گی کیونکہ اس زمین میں یا اس موسم یا ان حالات میں وہ آگ ہی نہیں سکتا۔پس کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ماحول ٹھیک ہو اور گردو پیش کے حالات موافق ہوں۔اگر گرد و پیش کے حالات موافق نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہوسکتی۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں ان کے اندر نیکی کرنے کا مادہ بھی موجود ہوتا ہے اور جذبہ بھی مگر وہ ایسا ماحول نہیں پیدا کر سکتے جس کے ماتحت صحیح قربانی کرسکیں۔پس ماحول کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو میں نے اُسے لکھا کہ یہ بے شک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے کہ تم دین کی خدمت کے رستہ میں اسے نباہ نہیں سکو گے اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کر دے گا تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کر سکتے وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جب کہا کہ قربانی کریں گے تو کر لیں گے۔حالانکہ یہ میچ نہیں۔ماحول کی ایک مثال میں پیش کرتا ہوں: ایک شخص کی آمدنی دس روپے ہے وہ پانچ روپے میں گزارہ کرتا ہے اور پانچ روپے کی قربانی کر سکتا ہے لیکن اگر وہ شادی کرلے تو دس روپے ہی صرف ہو جائیں گے اس صورت میں ممکن ہے وہ ایک آدھ روپیہ تو بچا سکے مگر یہ نہیں کہ پانچ کی ہی قربانی کر سکے۔پس قربانی حالات کے مطابق ہوتی ہے جب قربانی کے لئے چیز ہی پاس نہ ہو تو قربانی کہاں سے دے گا؟ اسلام نے یہ جائز نہیں رکھا کہ انسان شادی نہ کرے یا اولاد پیدا نہ کرے یہ میں نے مثال دی ہے کہ انسان کی جتنی ذمہ داریاں زیادہ ہوں گی اتنی ہی مالی قربانی وہ کم کر سکے گا۔پس آپ لوگ کتنے بھی ارادے قربانی کے کریں جب تک ماحول میں تغیر نہ ہوا نہیں پورا نہیں کر سکتے۔مجھے ہزار ہا لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم قربانی کے لئے تیار ہیں اور جنہوں۔19