تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 297

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تمام کاموں میں نمائش ہوا کرتی ہے اطاعت نہیں ہوتی۔ان کی ذلت اور رسوائی کا تمام راز اس امر میں ہے کہ وہ کچی اطاعت اور قربانی کے مفہوم سے ناواقف ہیں نہ وہ خدا تعالی کی کچی اطاعت کرتے ہیں اور نہ ان لوگوں کی جن کے ہاتھ میں دینی یا دنیوی قیادت کی باگیں ہیں۔نہایت چھوٹی چھوٹی نمائشی باتوں کے لئے ان کی جان یوں نکلتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بع نقصاں جو ایک پیسے کا دیکھیں تو مرتے ہیں لیکن بڑے اور عملی کاموں کی طرف ان کی توجہ بالکل نہیں ہوتی۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قاتلوں میں سے ایک حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا حضور یہ تو بتائیے کہ حج کے دنوں میں کوئی شخص جوں مار بیٹھے تو اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: خدا کے رسول کے بھائی ، خدا کے رسول کے داماد اور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کو تم نے قتل کر دیا اور تم مجھ سے مسئلہ پوچھنے نہ آئے لیکن حج کے دنوں میں جوں مارنے والے کی سزا کے متعلق تم مجھ سے مسئلہ پوچھنے آ گئے ہو؟ جاؤ دور ہو جاؤ میں تم کو کوئی مسئلہ بتانے کے لئے تیار نہیں۔تو یہ ضلالت اور گمراہی ہمارے ملک میں عام ہے کہ لوگ شیطانی قیاس کرتے ہیں اور بات کو خوب سمجھنے کے باوجود پھر بھی اپنے قیاسات دوڑاتے ہیں۔یہی لعنت ہے جو ان کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہے اور جس کی وجہ سے فرمانبرداری اور اطاعت کی روح ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتی۔جن بزرگوں نے یہ کہا ہے کہ پہلا قیاس شیطان نے کیا تھا در حقیقت ان کا بھی ایسے ہی قیاس سے مطلب تھا کہ بات واضح ہوتی ہے حکم بین ہوتا ہے مگر اسے رد کر دیا جاتا ہے اور ایک راہ پیدا کر کے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یوں قیاس کیا تھا۔اسی قسم کا قیاس ہے جس نے آدم کے زمانہ سے تباہی مچائی ہوئی ہے۔جب تک مومن کا مقام اس اطاعت اور فرمانبرداری کی حد تک نہ پہنچ جائے کہ جب اس پر حکم واضح ہو جائے تو پھر چاہے اس کی حکمت اسے سمجھ آئے یا نہ آئے اس پر عمل کرے اس وقت تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پہلا کام مومن کا یہ ہوتا ہے کہ جب اُسے کوئی حکم دیا جائے اور وہ اسے پوری طرح نہ سمجھ سکے تو اس حکم کی وضاحت کرالے جیسے مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا مقصد یہ ہے کہ مصافحہ نہ ہو؟ میں نے کہا نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص سٹیشن پر نہ آئے۔اس حد تک ان کا پوچھنا بالکل جائز تھا بلکہ ماتحت کا فرض ہوتا ہے کہ جب اسے کسی غلط نہی کا اندیشہ ہوتو وہ پوچھ لے لیکن جب ماتحت دریافت کر چکے تو پھر جو بات اسے کہی گئی ہو اس کے متعلق اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس پر ایسی اطاعت اور فرمانبرداری سے عمل کرے کہ اس میں کسی اعتراض کی گنجائش نہ ہو اور نہ اس میں کسی قسم کا تختلف ہو۔آخر غور تو کرو کہ 297