تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 292
تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول سکے؟ ایسے انسان کو خدا اپنی گودی میں لے لیتا، اسے پیار کرتا اور اسے اپنے قریب کر لیتا ہے۔ہماری مصیبتوں اور ابتلاؤں کا اس وقت بڑھنا بتاتا ہے کہ در حقیقت ہم حقیقی موت کے لئے ابھی تیار نہیں ہوئے جس طرح ماں اپنے بچہ کو چھیڑتی ہے اور کہتی ہے میں تجھے نیچے گراؤں اور وہ کہتا ہے نہ گراؤ تو چونکہ وہ اپنی ماں پر بدظنی کرتا ہے اس لئے وہ اور زیادہ اسے چڑاتی ہے مگر جب بچہ کہہ دیتا ہے بے شک مجھے پھینک دو تب وہ اپنے بچہ کو پھینکا نہیں کرتی بلکہ اسے گلے سے چمٹا لیتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی یہ دیکھتا ہے کہ ہم پھینکے جانے اور اُس کے لئے موت قبول کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں ؟ جس دن ہمارے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اُٹھی کہ اے خدا! ایک ہلاکت کیا ہم تیرے لئے ہزار ہلاکتوں کو بھی اپنے نفس پر وارد کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک موت کیا ہم تیرے دین کے لئے ہزار موتیں بھی قبول کرنے کو تیار ہیں کیونکہ قربانی ہمارے لئے عزت کا مقام ہے اس دن خدا تعالیٰ کی محبت میں اس زور سے جوش پیدا ہوگا اور اس کی الفت کے سمندر میں ایسا طوفان آئے گا کہ وہ خس و خاشاک کی طرح ہمارے مخالفوں کو بہارے گا اور وہ دشمن کے بیڑے جو ہماری تباہی کے لئے آرہے ہیں انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا مگر ہمیں بھی تو محبت کا کوئی جذ بہ دکھا نا چاہئے۔کیا خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں ہماری طرف نہیں بڑھایا ؟ مگر ہم نے اس ہاتھ کی کیا قدر کی؟ کیا ہمارے اندر اس ہاتھ کو دیکھ کر وہی جوش اور وہی محبت پیدا ہوئی۔جو اس قسم کے احسان اور سلوک کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے ؟ ہم نے تو اس احسان کی طرف ایسی ہی توجہ کی جیسے انسان قوس قزح کا نشان آسمان پر دیکھتا ہے تو تھوڑی دیر کیلئے کہ دیتا ہے واہ وا کیا اچھا نشان ہے! اور یہ کہ کہہ کر پھر اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں آتا کہ آسمان پر قوس قزح ہے۔بے شک ہم میں مخلص بھی ہیں، وہ بھی ہیں جو اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی عزت اور اپنی آبرو ہر وقت قربان کرنے کے لئے تیار ہیں مگر ان کی تعداد کتنی ہے؟ عام لوگوں کو تو ان سادہ لوح ، ان پڑھ مخلصوں پر رشک کرنا چاہئے جو گو علم ظاہر سے محروم تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو علم باطن دیا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری ایام میں آخری جلسہ سالانہ پر سیر کیلئے باہر نکلے تو جس وقت آپ اس بڑ کے درخت کے قریب پہنچے جو آج کل ریتی چھلہ کے درمیان میں ہے تو ہجوم کی زیادتی کی وجہ سے سیر کے لئے جانا آپ کیلئے مشکل ہو گیا اور اسی جگہ ٹھہر کر آپ نے لوگوں کو مصافحہ کا موقع دیا اس وقت ہجوم میں پانچ چھ سو کے قریب لوگ تھے ، ہجوم کی زیادتی اور محبت کے وفور کی وجہ سے مصافحہ کے لئے رستہ ملنا بعض کو مشکل ہو گیا۔ایک زمیندار سے دوسرے زمیندار نے پوچھا کیوں بھئی مصافحہ کر لیا؟ اس نے جواب دیا ہجوم بہت ہے اور 292