تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 291

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء باپ قرآن دونوں فوت ہو گئے ، فوت ہونے کے بعد دونوں دفن کر دیئے گئے اور کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ ہمارا خدا کہتا ہے کہ تم عقیدت کے دو آنسو ان پر بہاد و وہ زندہ ہو جائیں گے مگر ہمیں اتنی بھی توفیق نہیں ملتی کہ ہم دو آنسو بہا سکیں اور پھر ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ؟ پھر ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں؟ اگر اسلام اور قرآن کی موت پر ہمارے دو آنسو بھی عقیدت کی نذر نہیں بن سکتے تو اسلام اور قرآن سے ہماری محبت کا دعویٰ کہاں تک جائز ہو سکتا ہے؟ پس میں اپنی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔تم باتیں کرتے ہو مگر کام نہیں کرتے۔یہاں مجالس شوری ہوتی ہیں، دھڑلے سے تقریریں کی جاتیں ہیں، لوگ رو بھی پڑتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلیجہ باہر آنے لگا ہے مگر جب یہاں سے جاتے ہیں تو ست ہو جاتے ہیں، لوگ چندے لکھواتے ہیں مگر دینے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں میں نام پیدا کرنے کے لئے وہ کہتے ہیں ہم احمدیت کے لئے ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار ہیں مگر قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں ان کی مثال بالکل ہندوؤں کی لڑائی کی سی ہوتی ہے ایک کہتا ہے پنسیری ماردوں گا اور دوسرا کہتا ہے مار پنسری تو پہلا شخص دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم فیصلہ کر لیں کہ اسلام اور احمدیت کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور پھر کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی ہم پر غالب آ سکے؟ بچہ کو اس کی ماں بعض دفعہ اُٹھاتی اور اُچھالتی ہوئی کہتی ہے بیٹا تجھے نیچے پھینک دوں ؟ جب تک بچہ ڈرتا ہے ماں اس کا مذاق اُڑاتی رہتی ہے اور کہتی ہے تجھے ابھی بچے پھینکتی ہوں مگر جب بچہ کہتا ہے پھینک دو تو کیاتم سمجھتے ہو کوئی سنگدل سے سنگدل ماں بھی اس فقرہ کو سن کر بے تاب ہوئے بغیر رہ سکتی ہے؟ کیا بچہ جس وقت کہتا ہے ماں مجھے بے شک پھینک دو اس وقت ایک سنگدل سے سنگدل ماں کا دل بھی خون نہیں ہو جاتا ؟ کیا اس کے آنسو نہیں بہہ پڑتے اور کیا وہ اس کا منہ چوم کر اسے چھاتی سے نہیں لگا لیتی؟ اور کیا وہ اسے بھینچ کر نہیں کہتی میری جان تجھ پر قربان میں تجھے کب گرا سکتی ہوں؟ پھر کیا تم سمجھتے ہو ہمارا خداماں سے کم رحم دل ہے؟ وہ بھی ہمارے ایمان اور ہمارے اخلاص کا امتحان لیتا ہے اور کہتا ہے میں تمہیں نیچے گراتا ہوں۔جب تک ہم کہتے ہیں ہم کو قربان نہ کرو، ہمیں نیچے نہ گراؤ وہ اور زیادہ زور سے ہمیں ڈراتا ہے مگر جب ہم کہہ دیتے ہیں ہمیں اس میں کیا عذر ہے اور یہ کیا قربانی ہے؟ ہم تو اس سے بھی بڑی قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہیں وہ ماں سے زیادہ زور سے ہمیں بھینچتا، اپنے ساتھ ہمیں چمٹاتا اور پیار کرتا ہے اور ہم پہلے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہو جاتے ہیں اور جب ہم اس کے قریب ہو جائیں تو موت کی کیا طاقت ہے کہ خدا کی گود میں ہاتھ ڈال 291