تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 290
تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول دن آچکا اور ہم اپنی نادانی اور بے وقوفی سے بچہ کی طرح اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو اسلام کا سوائے اس کے اور کیا باقی ہے کہ لوگ آئیں اور اس کی لاش کو دفن کر دیں۔ایک بچہ جس دن اس کی ماں مرتی ہے یہ نہیں سمجھتا کہ اس کی ماں مرگئی ہے مگر جب وہ بڑا ہوتا ہے، جب وہ یتیم کے طور پر کسی گھر میں پالا جاتا ہے، جب اس کے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور وہ تکلیف کا اظہار کرتا ہے تو مالکہ اسے ڈانٹ کر کہتی ہے بے شرم بے حیا روٹی کھانے کے لئے آموجود ہوتا ہے اور کام کے وقت پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے؟ جب اس پر ملیریا کا حملہ ہوتا ہے، جب اس کی لاتوں اور ہاتھوں میں درد ہو رہا ہوتا ہے اور اس کی مالکہ اسے مار کر کہتی ہے، بچہ کوکھلا اور جب وہ تکلیف کا اظہار کرتا ہے تو وہ اور تمھیاں مارتی اور کہتی ہے: نامعقول بہانے بناتا ہے! تب اُسے محسوس ہوتا ہے کہ میری ماں مر چکی ہے اور اب دنیا میں میرا کوئی ہمدرد نہیں مگر افسوس! مسلمانوں پر کہ وہ تجھیاں پڑنے پر بھی نہ سمجھے۔اسلام جس کے ذریعہ انہیں عزت حاصل تھی ، اسلام جس کے ذریعہ انہیں عظمت حاصل تھی ، اسلام جس کے ذریعہ انہیں فوقیت حاصل تھی ، وہ اسلام جس نے ان بھیڑوں اور بکریوں کے چرواہوں سے اُٹھا کر دنیا کا بادشاہ بنا دیا اور یورپ کے ایک سرے سے لے کر چین کے دوسرے سرے تک ان کا ڈنکا بجا دیا وہ اسلام اور قرآن مرگئے ، دفن کر دیئے گئے اور مسلمان غیر عورتوں کے سپرد کر دیئے گئے، ان کی طرف سے مسلمانوں پر تھچیاں پڑیں ظلم ہوئے تکلیفیں آئیں مگر ابھی تک وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اپنے بد اعمال کی وجہ سے اپنی ماؤں سے جدا کر دئیے گئے ہیں۔کاش! انہیں محسوس ہوتا کہ دنیا کی مائیں ایک دفعہ مر کر زندہ نہیں ہوتیں مگر روحانی مائیں زندہ ہو جاتی ہیں۔اگر ہم میں سے وہ شخص جس کی ماں مری ہوئی ہو، اگر ہم میں سے وہ شخص جس کا باپ مرا ہو، وہ شخص جو دوسروں کے دروازہ پر ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہو جسے کھانے کے لئے روٹی، پینے کے لئے پانی اور تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا میسر نہ ہو جسے نہ دن کو آرام اور نہ رات کو چین کی نیند نصیب ہوا ایسے انسان کے پاس اگر کوئی شخص آئے اور کہے: اے بچہ! اُٹھ اور اپنے والدین کی قبر پر افسوس اور ندامت کے دو آنسو بہا تیری ماں اور تیرا باپ زندہ ہو جائیں گے تو کون ہے جو پاگلوں کی طرح قبرستان کی طرف دوڑ انہیں جائے گا اور اپنے ماں باپ کی قبر پر افسوس اور ندامت کے ساتھ آنسو بہانے کے لئے تیار نہیں ہوگا؟ میری تو قوت واہمہ بھی اس کا خیال نہیں کر سکتی کہ ایک شخص کے سامنے یہ تجویز پیش ہو اور ایسے معقول انسان کی طرف سے پیش ہو جس پر اسے اعتبار ہو اور اس کی بات کو وہ رد کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ دیوانہ وار قبرستان کی طرف نہ جائے اور اپنے آنسوؤں سے ان قبروں کو تر نہ کر دے؟ مگر ہماری روحانی ماں اسلام اور روحانی 290