تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 289

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء کی خوبصورتیاں نظر آئیں، بل کھاتے ہوئے دریاؤں نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کیا، چمکتی ہوئی بجلیاں اور کڑکتے ہوئے بادل ان کی دلجمعی کا باعث بنے ، پہاڑوں کی سرسبزیاں اور ان کی شادا بیاں ان کے دلوں کی راحت کا موجب ہوئیں، مرنے والا انسان جو ہزاروں گندگیاں اپنے اندر رکھتا ہے آنکھ کی اچھی بیٹھک یا ناک کی اچھی بیٹھک کی وجہ سے ان کا محبوب و مطلوب بن گیا مگر کسی نے توجہ نہ کی تو سارے جسموں کے مجموعہ اور تمام خوبصورتیوں کے جامع قرآن کی طرف۔دنیا داروں نے دنیا کی چیزوں کو دیکھا اور ان کے حسن کو انہوں نے محسوس کیا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی دنیا میں قرآن کو دیکھا اور اس کے حسن کو انہوں نے اپنے دل میں جگہ دی اور دکھ محسوس کیا کہ لوگوں نے کیوں اسے چھوڑ دیا؟ لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میرا بیٹا بڑا ذہین ہے مگر اُستاد اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور وہ فیل ہو جاتا ہے ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میری بیٹی بڑی لائق ہے مگر اس کا خاوند اس سے اچھا سلوک نہیں کرتا ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میرا بیٹا بڑا لائق ہے مگر اس کی بیوی اس سے محبت نہیں کرتی ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے بیٹے نے اعلیٰ نمبروں میں امتحان پاس کیا ہے مگر تمام محکموں پر ہندو چھائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسے نوکری نہیں ملتی ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا بچہ بیمار ہے اس کی حالت نہایت دردناک ہے۔غرض ہر شخص دنیا کی چیز دیکھتا اور دنیا کی چیزوں کے متعلق اپنی درد دوسرے کے سامنے پیش کرتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا قرآن لے کر اس کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں : اے خدا! اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔کیا ہے وہ زندگی اور کیا نفع ہے اس حیات کا جس میں ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں؟ ہم دنیا کو مخاطب کرتے اور کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں جو اسلام کے لئے اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہیں مگر عمل سے کچھ نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ کیا واقعہ میں ہم اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں یا کیا ہم دنیا کو اتنا بے وقوف سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری حالتوں کو نہیں دیکھتی اور ہمارے جھوٹ کو محسوس نہیں کرتی؟ کیا ممکن ہے کہ ہم سارے کے سارے بحیثیت جماعت یا ہم میں سے اکثر اسلام کے لئے اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہوں اور خدا تعالٰی کے ملائکہ آسمان سے اتر کر دنیا کا نقشہ نہ بدل دیں ؟ مگر ابھی تو ہماری چھوٹی سے چھوٹی تدبیریں اور تجویزیں بھی جدید اور قدیم کے ناموں میں الجھتی رہتی ہیں۔گویا ہماری مثال اس بچہ کی سی ہے جس کی ماں مرجاتی ہے اور بچہ سمجھتا ہے کہ ماں جو مجھ سے نہیں بولتی تو وہ مجھ سے مذاق کر رہی ہے۔اسلام میں اب کیا باقی رہ گیا ہے؟ اس کی روح اس سے نکل گئی ہے، قرآن کی روح بھی جاتی رہی ہے مگر ہم ابھی کھیل رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ابھی موت کا دن آنے والا ہے۔حالانکہ اس کی موت کا 289