تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 288

تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہے میں نے اُسے دیکھا اور میرا دل اس سے متاثر ہوا کئی منٹ تک میں اسے دیکھتارہا اور میرا دل تکلیف اور غم سے بھرتا چلا گیا مگر میں نے سوچا یہ ایک آدمی ہے اس کے مرنے سے دنیا میں کونسا تغیر آ گیا ؟ اس کا جسم نہیں اُڑا بلکہ ماتھا اُڑا، ایک آنکھ نکلی ہے اور اس کی دوسری آنکھ زخمی ہوئی لیکن اس کو دیکھ کر ہر شخص کے جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں۔وہ مصر کا اخبار تھا اور اس تصویر کے اوپر لکھا ہوا تھا فلسطین کے بھائی کی تکلیف کو دیکھا اور اس کی مدد کے لئے اُٹھ ! میں نے کہا اس کا سارا جسم سلامت ہے صرف اس کا ماتھا اُڑا، ایک آنکھ نکلی اور دوسری آنکھ زخمی ہوئی اور مجھے اس کی تکلیف کا اتنا احساس ہے لیکن آج اسلام کا کون سا حصہ سلامت ہے؟ اس کا ماتھا بھی اُڑ گیا، اس کا سر بھی اُڑ گیا، اس کا ناک بھی اُڑ گیا، اس کے کان بھی اُڑ گئے ، اس کے کلے بھی پچک گئے ، اس کی گردن بھی کائی گئی، اس کا سینہ بھی چھلنی کیا گیا اور اس کے ہاتھ اور اُس کے پاؤں کو بھی کاٹ کر اس کا قیمہ کر کے رکھ دیا گیا۔اس بے کار انسان کے قلیل زخم کو دیکھ کر جب انسانی دل تڑپ اُٹھتا ہے تو کیا اسلام کے ان گہرے زخموں کو دیکھ کر جن سے اس کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں کوئی دردمند انسان ہے جو نہ تڑپے؟ اسلام سچائیوں کا نام ہے اور سچائی تمام چیزوں سے بالا تر کبھی جاتی ہے لیکن اگر اسلام میں دماغ ہوتا، اگر اسلام میں قوت متفکرہ ہوتی ، اگر اسلام کے پاس سوچنے والا دل اور بولنے والی زبان ہوتی تو وہ خدا کے عرش کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا کہ کاش! تو مجھے ایک انسان ہی بنا دیتا جس کے زخم دیکھ کر لوگ تڑپ تو اُٹھتے ! تو نے مجھے سچائی بنایا جس کی وجہ سے میرے زخموں کو کوئی نہیں دیکھتا، میرے زخموں کو دیکھ کر کسی کے دل میں درد پیدا نہیں ہوتا مگر یہ حالت کن کی ہے؟ ان لوگوں کی جو مادی دنیا کے مشاغل میں مبتلا ہیں، جنہیں روحانی نظریں حاصل نہیں جو روحانی کیفیتوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے ، جنہیں قرآن کے اوراق محض کاغذ اور اس کے حروف محض سیا ہی نظر آتے ہیں، جن کو قرآن کا حسن صرف اتنا ہی نظر آتا ہے کہ اسے کسی اچھے کاتب نے اعلیٰ خط میں لکھا، ان کو اس قرآن کے وہ زخم نظر نہیں آتے جو اسے لگے ہوئے ہیں نہ انہیں اسلام کے وہ زخم دکھائی دیتے ہیں جو اس کے ہر حصہ پر دشمنوں نے لگائے مگر وہ جن کی روحانی آنکھیں کھلی ہیں، جنہیں روحانی خوبصورتی نظر آتی ہے وہ اسلام کے اس دکھ کو بھی محسوس کرتے ہیں، وہ قرآن کے ان زخموں کو بھی دیکھتے ہیں۔قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور اس سے رفت بھرے لہجہ میں کہیں گے: يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 31) اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو پیچھے پھینک دیا۔لوگوں کو لہلہاتے ہوئے سبروں کو 288