تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 285

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اول تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء خدا تعالیٰ نے کہا: اے ابراہیم علیہ السلام! میں تیری نسل کو دنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا۔اللہ تعالیٰ کار کلام بتا رہا ہے کہ نسل ہمیشہ اس کو ملتی ہے جو اپنی نسل کی قربانی خدا تعالیٰ کے لئے کرنے کو تیار ہو جائے اور عزت ہمیشہ اس کو ملتی ہے جو اپنی عزت خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے کو تیار ہو جائے۔سلامتی ابتلا کے مقابلہ کی چیز ہے۔جب ہم کہیں کہ خدا نے کسی کو نسل دی ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنی اولا د کو خدا تعالی کیلئے قربان کرنے پر تیار ہو گیا تھا، جب ہم کہیں کہ خدا نے کسی کو مال دیا ہے تو اس کے لازمی معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے مال کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے پر تیار ہو گیا تھا، جب ہم کہیں کہ خدا نے کسی کو عزت دی ہے تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ وہ اپنی عزت کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان کرنے پر تیار ہو گیا تھا اور جب ہم کہیں کہ ہر دروازہ سے کسی کے لئے سلامتی آئی تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے ہر قربانی کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔پس مت خیال کرو کہ تمہارے منہ کی باتیں تمہارے کام آئیں گی اور تمہاری زبانیں تمہیں جنت میں لے جاسکیں گی۔جب تک تم ہر دروازہ سے خدا تعالیٰ کے لئے موت قبول نہیں کرو گے، جب تک تم فرشتوں کیلئے ہر دروازہ کھولنے کے لئے تیار نہیں ہو گے، جب تک تم اپنی جان کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنے مال کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی عزتوں کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے ، جب تک تم اپنی دوستیوں کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی عادات کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان نہیں کرو گے اور جب تک ہر دروازہ فرشتوں کے لئے کھول نہیں دو گے اس وقت تک تمہیں جنت میئر نہیں آسکتی۔یہ کوئی نیا پیغام نہیں جو میں نے دیا۔حضرت آدم بھی یہی پیغام لائے تھے، حضرت نوح بھی یہی پیغام لائے تھے، حضرت ابراہیم بھی یہی پیغام لائے تھے ، حضرت موسی بھی یہی پیغام لائے تھے، حضرت عیسی بھی یہی پیغام لائے تھے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی پیغام لائے تھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام قیامت تک کے لئے ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔انسانی چیزوں اور خدائی چیزوں میں فرق یہی ہے کہ انسان کی چیز پرانی ہو جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی چیز پرانی نہیں ہوتی۔انسان کپڑے پہنتا ہے جو چند دنوں کے بعد میلے ہو جاتے اور کچھ عرصہ کے بعد پھٹ جاتے ہیں لیکن خدا تعالٰی غلہ پیدا کرتا ہے وہ انسان کھاتا ہے جس کا کچھ حصہ پاخانہ بن کر زمین میں چلا جاتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ اور غلہ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر انسان کی بنائی ہوئی چیز مولد نہیں ہوتی مگر خدا تعالی کی بنائی ہوئی چیز مولد ہوتی ہے۔تمہارے لٹھے کا ایک تھان پانچ تھان نہیں بن سکتا لیکن خدا تعالیٰ کا ایک دانہ ستر دانے بن 285