تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 277
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تقریر فرمود : 28 جون 1936ء تحریک جدید ایک قطرہ ہے قربانیوں کے اس سمندر کا جو تمہارے سامنے آنے والا ہے تقریر فرموده و 28 جون 1936 ء بر موقع جلسہ تحریک جدید سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میری صحت تو اس بات کی اجازت بالکل نہیں دیتی کہ میں تقریر کر سکوں لیکن انسان ان باتوں سے غافل ہوتا ہے جو اس کو نظر نہیں آتیں۔اگر کسی کے پاؤں میں کوئی زخم ہو اور وہ چلتا ہوا نظر آئے تو اس سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اس کو ملامت کرتا اور اس کی منتیں کرتا ہوا کہتا ہے آپ لیٹے رہنے تا زخم اچھا ہو جائے کیونکہ وہ زخم ان لوگوں کو نظر آ جاتا ہے لیکن جب وہی زخم اندرونی ہوتا ہے، ایک کو پیچش ہو جاتی ہے اور وہ اس تکلیف کا اظہار کرتا ہے تو اس کے دوست اسے کہتے ہیں یو نبی نخرے کر رہا ہے اسے کیا ہوا ہے کہ یہ چل پھر نہیں سکتا؟ وہی زخم اگر کسی کے گلے میں ہوتا ہے تو اس کی انسان چنداں پروا نہیں کرتا اور یہ امید رکھتا ہے کہ باوجود اس زخم کے وہ بولتا چلا جائے اور وہ خیال کرتا ہے کہ بھلا تھوڑ اسا بو لنے میں کیا حرج ہے؟ یہ عام انسانی فطرت کی کمزوری ہے اور انسان بوجہ اپنے محدود علم کے اس قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہوتارہتا ہے۔میں نے تحریک جدید کے متعلق اس قدر باتیں کہہ دی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں مجھے اس بارہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر انسانی فطرت جدت پسند بھی ہے اور وہ سب کچھ سننے کے بعد پھر بھی خواہش کرتی ہے کہ کچھ اور سنایا جائے اور وہ اس سوال پر بھی بر امناتی ہے کہ تم جو اور سننے کے خواہش مند ہو پچھلے سننے پر تم نے کیا عمل کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں اگر مجھے فلاں معجزہ دکھا دیا جائے تو میں آپ پر ایمان لانے کیلئے تیار ہوں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ مداری نہیں وہ کوئی تماشا نہیں دیکھا تا بلکہ اس کا ہر کام حکمت سے پُر ہوتا ہے آپ یہ بتائیں کہ جو پہلے مجزے دکھائے گئے ہیں اُن سے آپ نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ آپ کے لئے اب کوئی نیا معجزہ دکھایا جائے ؟ مگر انسانی فطرت کی کمزوری اس کو بھی نا پسند کرتی بلکہ شاید اسے بد تہذیبی قرار دیتی ہے۔وہ جائز سمجھتی ہے کہ سستی اور غفلت میں مبتلا چلی جائے بلکہ سستی اور غفلت میں ہمیشہ پڑی رہے اور کوئی اس سے اتنا بھی سوال نہ کرے کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک 277