تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 267

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء کی بھرتی منع نہیں ہے مگر میں نے تحقیقات کی ہے یہ دونوں باتیں صحیح ہیں یہ حکم بھی ہے کہ سیدوں کو بھرتی نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ احمدیوں کو بھرتی نہ کیا جائے۔واللہ اعلم معاملہ کیا ہے؟ اس بڑے افسر کو یہ علم ہی نہ تھا یا اس نے غلط بیانی کی لیکن جب یہ میچ ہے کہ ایک طبقہ ضرور ہمارا مخالف ہے تو ہمیں چاہئے دوسروں کے پاس بھی کوئی سفارش نہ لے جائیں۔جو مخالف نہیں اگر ان کے پاس ہم سفارش کریں تو ممکن ہے وہ تو کوئی احسان نہ جتائیں مگر مخالف طبقہ ضرور کہے گا کہ ہم نے فلاں وقت تمہارا کام کر دیا تم ہمیں کس طرح اپنا مخالف کہتے ہو؟ اور یہ الفاظ سننے کے لئے کیا تمہاری غیرت تیار ہے؟ بے شک ایسے افسر اور ہیں اور دوست اور مگر ہمیں تو اتنی عقل چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں ہمیں کیا طعنہ ملے گا ؟ بے شک جو انگریز ہمارے دوست ہیں یا حسن نلنی رکھتے ہیں وہ ایسی بات یاد نہیں دلائیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ اچھے شہری ہیں، قانون کے پابند ہیں اور ملک میں امن قائم کرتے ہیں ان کے بھی حقوق ہیں انہیں کیوں تلف کریں؟ مگر وہ حصہ جو جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتا وہ دوسروں کے کام کو لے کر ہمارے منہ پر مارے گا اور کہے گا کہ تمہیں یاد نہیں فلاں وقت ہم نے تمہارا فلاں کام کیا تھا مگر افسوس ہے کہ جماعت کے بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔پتہ نہیں ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اور جس کا میں نے بار بار اپنے خطبات میں ذکر بھی کیا ہے وہ ان سب باتوں کو مبالغہ یا محول اور کھیل ہی سمجھتے ہیں؟ میں جب یہ حالت دیکھتا ہوں تو اگر چہ لفظوں سے تو نہیں کہتا مگر میرا دل چاہتا ہے کہ اگر جائز ہو تو خدا تعالیٰ سے کہوں کہ وہ جماعت کے ابتلاؤں کو اور بھی بڑھا دے تا ایسے دوستوں کے حواس درست ہوں۔خدا ابتلاؤں کو اتنا بڑھائے کہ یہ سونے والے بیدار ہو جائیں اور پاگل عقلمند بن جائیں اور وہ سمجھیں کہ یہ تو پھر بھی غیر لوگ ہیں سعدی نے تو کہا ہے کہ ہمسایہ کی مدد سے جنت میں جانا بھی دوزخ میں جانے کے برابر ہے۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کا ابتلا اسی وجہ سے آیا ہے تا اللہ تعالیٰ ہمیں بتا دے کہ انگریزی حکومت میں بھی ایسے کل پرزے آسکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا ئیں۔گو یہ آج تھوڑے ہیں مگر کس کو کیا معلوم کہ کل زیادہ ہو جائیں؟ اگر آج حکومت پنجاب میں ہیں تو کل حکومت ہند میں بھی ہو سکتے ہیں۔جو شخص کسی دوسرے کے سہارے پر بیٹھا رہتا ہے اس سے زیادہ احمق اور بے حیا کوئی نہیں ہو سکتا۔انگریز خواہ کتنے اچھے کیوں نہ ہوں مگر ہم کیوں ان کے سہارے پر رہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک واقعہ لطف لے کر بیان کیا کرتے تھے کہ آپ جب فوت ہوئے اس وقت اتنی سال کے قریب عمر تھی مگر وفات سے ایک گھنٹہ پہلے آپ پاخانہ کے لئے اٹھے آپ کو سخت پیچش تھی اور پاخانہ کے لئے جارہے تھے کہ رستہ میں ایک ملازم نے 267