تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 265

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء داخل ہو گئے ہیں اس نے تلوار میان سے نکال لی اور خود لڑائی میں کود پڑا اور اس نے کہا کہ : ” گیڈر کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک گھنٹے کی زندگی بہتر ہوتی ہے۔ایک انگریز افسر جو شریف دل رکھتا تھا باوجود اس کے کہ اس کے دشمنوں سے تعلق رکھتا تھا، اپنے تذکرہ اور یادداشت میں بیان کرتا ہے کہ ہم نے متواتر اس کے سامنے یہ بات پیش کی کہ ہم فتح پاچکے ہیں اب تم ہمارے ساتھ کہاں لڑ سکتے ہو ؟ بہتر ہے کہ ہتھیار ڈال دو مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ میدان میں ڈھیر ہو گیا۔یہ اکیلا شخص تھا جس نے ہندوستان کی آئندہ حالت کو سمجھا اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی مگر کوئی اس کی بات کو نہ سمجھا اور اس کے نتائج آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ہزاروں غلامیوں کے طوق آج مسلمانوں کے گلے میں پڑے ہیں۔وہ ایک غلامی کو رو رہے ہیں کہ یہاں انگریز حکومت ہے حالانکہ ہندوؤں کی حکومت کا طوق بھی ان کی گردن میں ہے ،سکھوں کی حکومت کا طوق بھی ان کی گردن میں ہے، بڑے بڑے تاجروں کی حکومت کا طوق ہے، ساہوکاروں کی حکومت کا طوق ہے، ہر محکمہ پر جو لوگ قابض ہیں ان کی حکومت کا طوق ہے۔کوئی پیشہ کوئی فن ، کوئی ہنر اور کوئی میدان نہیں جس میں انہیں عزت حاصل ہو اور یہ سب نتیجہ اس آواز کے نہ سننے کا ہے جو انہیں وقت پر سنادی گئی تھی۔اس وقت مسلمان بے وقوفی کی جنت میں بیٹھے رہے جو انہیں دوزخ میں لے گئی انہوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے سمجھ لیا کہ اب بلی ان پر حملہ آور نہیں ہوگی لیکن وہ تو تشت اختلاف اور تفرقہ کا زمانہ تھا لوگوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور اختلاف کی رو میں بہہ گئے مگر ہماری جماعت کے لئے ویسا زمانہ نہیں ہم نئے نئے متحد ہوئے ہیں اور : فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (آل عمران: 104) کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ایسی جماعت کی قلبی اور اندرونی حالت یقیناً اس سے بہتر ہونی چاہئے اور ہمارے اندر زیادہ بیداری اور ہوشیاری ہونی چاہئے۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ آئندہ کے خطرات کو محسوس کرو، اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور ان قربانیوں کی طاقت اپنے اندر پیدا کرو جن کے نتیجہ میں محفوظ رہ سکو مگر بعینہ اس طرح جس طرح ایک افیونی کو جگا دیا جاتا ہے مگر وہ پھر سو جاتا ہے، پھر جگایا جاتا ہے اور پھر سو جاتا ہے، جماعت کے دوستوں کو جگایا جاتا اور ہوشیار کیا جاتا ہے اور وہ قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر پھر سو جاتے ہیں۔انہیں سوچنا چاہئے کہ کب تک کوئی گلا پھاڑ تا رہے گا؟ اگر یہی حالت رہی تو تم سمجھ سکتے ہو اس کا انجام کیا ہوگا؟ یہ مت خیال کرو کہ خدا کے وعدے تمہاری کامیابی کے لئے ہیں خدا تعالیٰ کے وعدے مشروط ہوتے ہیں اور اگر انسان 265