تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 264

خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور بعد میں افسوس سے ہاتھ ملنے لگے۔انگریز بھی خوب سمجھتے ہیں کہ درحقیقت وہی ایک شخص تھا جس نے ان کی تدابیر کو سمجھا کیونکہ ان کے دلوں میں اس کا اتنا بغض ہے کہ وہ اس کے نام پر اپنے کتوں کا نام رکھتے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ گلی کوچوں میں آوارہ پھرنے والے بچے بھی جب کسی کو چڑانا چاہتے ہیں تو اسے کتا کہنے کی بجائے ٹیپو ٹیپو کہہ کر پکارتے ہیں اور ان کو معلوم نہیں کہ ہندوستان میں صرف وہی ایک بادشاہ تھا جس نے اس خطرہ کو سمجھا جو یہاں اسلامی حکومت کو پیش آنے والا تھا وہی تھا جس نے غیرت دکھائی اور غیرت پر جان قربان کر دی۔سلطان ٹیپو نے جب انگریزوں کے بڑھتے ہوئے تسلط کو دیکھا، ٹیپو اس کا نام نہیں بلکہ جس طرح پنجابی میں بعض لوگوں کے نام کے ساتھ کوئی لفظ ہوتا ہے جسے اس کی آل کہا جاتا ہے اسی طرح ٹیپوال تھی تو اس نے چاروں طرف مسلمانوں کو خطوط لکھے کہ اسلامی عظمت کا نشان مٹ رہا ہے آؤ! اکٹھے ہو جاؤ تا اسے بچایا جا سکے۔اُس نے ایک طرف ایران کی حکومت کو لکھا تو دوسری طرف افغانستان کی سلطنت کو۔پھر اس نے ترکوں کو بھی لکھا اور اس کے پہلو میں نظام کی جو حکومت تھی اسے بھی متوجہ کیا اور یہاں تک لکھا کہ یہ مت سمجھو کہ میں اپنی عظمت چاہتا ہوں اگر تمہارا یہ خیال ہو تو میں تمہارے ماتحت ہو کر لڑنے کو تیار ہوں لیکن خدا کے لئے اور اسلام کی خاطر آؤ متحد ہو جائیں مگر جب بد قسمتی آتی ہے تو آنے والے خطرات سے انسان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ اسے موت آدباتی ہے۔اس وقت کے نظام نے خیال کیا کہ چونکہ انگریز میرے دوست ہیں اور ان کی مدد سے میں ٹیپو کی حکومت کا خاتمہ کرنے والا ہوں اس لئے ڈر کر اس نے مجھے یہ تحریک کی ہے اور ایرانیوں نے خیال کیا کہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت کا خاتمہ ہونے سے ہمیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ آخر اس بندہ خدا نے اکیلے ہی مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں اس کا آخری فقرہ میں سمجھتا ہوں ایسا فقرہ ہے جسے تاریخ کبھی مٹا نہیں سکتی ، بعض فقرات اپنے اندر ایسے پاکیزہ جذبات کو لئے ہوئے ہوتے ہیں کہ زمانہ کے اثرات اور وقت کا بعد انہیں مٹا نہیں سکتا، جس وقت قلعہ کی بیرونی فصیل کو تو ڑ کر جس میں وہ تھا ایک طرف سے انگریز اندر داخل ہوئے یا یوں کہنا چاہئے کہ بعض غدار افسروں کی مدد سے وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا ایک جرنیل دوڑ کر اس کے پاس پہنچا وہ اس وقت دو فصیلوں کے درمیان کھڑا اپنی فوج کولڑا رہا تھا کہ اسے اس کے جرنیل نے یہ خبر دی کہ انگریز شہر میں داخل ہو گئے ہیں اور اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ آپ ہتھیار رکھ دیں اور اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیں وہ یقیناً آپ کا اعزاز کریں گے مگر جس وقت سلطان ٹیپو نے یہ سنا کہ انگریز شہر میں 264