تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 263

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق جماعت کو انتباہ خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ ابراہیم کی آیت: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ (ابراہیم: 14) تلاوت کی اور پھر فرمایا:۔” میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مشکلات اور ابتلاؤں کے لئے تیار کریں جو مستقبل میں ان کا انتظار کر رہے ہیں مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آرام یا آرام تو نہیں، کہنا چاہئے آرام طلبی موجودہ طرز رہائش کی وجہ سے دنیا میں خصوصاً ہندوستانیوں میں پیدا ہورہی ہے، اس کی وجہ سے اکثر دوست اس بات کی جو میں کہتا ہوں اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کے لئے آمادہ وتیار نظر نہیں آتے۔میں اپنی جماعت کے متعلق تو یہ نہیں سمجھتا کہ ایسا ہو لیکن بعض دفعہ بد قسمتی سے انسان کی آنکھیں ایسی بند ہو جاتی ہیں کہ وہ نتائج اور انجام سے غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مصیبت آکر اُسے پکڑ لیتی ہے۔ہزاروں بادشاہتیں اور حکومتیں اسی طرح تباہ ہو گئیں کہ ان بادشاہتوں اور حکومتوں والے اپنے خیال میں اس یقین اور اطمینان سے بیٹھے رہے کہ کوئی دشمن ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہندوستان میں انگریزوں کا تسلط اس رنگ میں ہوا یہاں کے حکمرانوں کو انہوں نے آپس میں لڑا دیا اور ان میں سے ہر ایک یہی سمجھتا رہا کہ ہم اپنے دشمن کو مار رہے ہیں اور کسی نے بھی یہ خیال نہ کیا کہ اپنے آپ کو مار رہے ہیں۔ایک انگریز مصنف نے لکھا ہے کہ ہندوستان کو ہم نے فتح نہیں کیا بلکہ ہندوستانیوں نے ہندوستان کو ہمارے لئے فتح کیا ہے۔سارے ہندوستان میں صرف ایک شخص تھا جس نے اس حقیقت کو سمجھا اور دوسروں کو اُکسایا اور ہوشیار کیا مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی اور اس کی آواز بالکل رائیگاں گئی یہاں تک کہ ملک ہاتھ سے نکل گیا 263