تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 257

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 21 اپریل 1935ء تو قیر کرتے ہیں لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ان کی قربانیوں پر رشک نہ کریں اور ان سے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ ﷺ کا طریق یہ تھا کہ اگر کوئی چیز اہل مجلس کو دیتے تو دائیں طرف والے کو دیتے۔اس وقت آپ کے لئے دودھ لایا گیا آپ ﷺ نے اس وقت حضرت ابو بکر کی طرف دیکھا جو بائیں طرف بیٹھے تھے اور دائیں طرف ایک بچہ بیٹھا تھا آپ ﷺ نے شاید اس خیال سے کہ حضرت ابو بکر بوڑھے ہیں اور دیر سے بیٹھے ہیں انہیں بھوک لگی ہوگی بچے سے کہا اگر اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دوں؟ بچہ نے کہا کیا یہ دودھ لینے کا میرا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! اس نے کہا پھر میں یہ نہیں کر سکتا کہ یہ حضرت ﷺ کا ترک ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دوں میں اس برکت کو نہیں چھوڑ سکتا۔پس ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ادب اور احترام کا مقام دے سکتے ہیں اور ان کے لئے جان بھی دے سکتے ہیں مگر جب قربانی کا موقع آئے تو ہم کہیں گے کہ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔جب تک ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ جذبہ نہ پیدا ہو، ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح محسوس کر لیا۔اب غور کرو ہم پر ایک طرف تو کام کا اتنا بوجھ اور دوسری طرف سستی کا یہ عالم کہ اس مارچ تک جماعتوں کے ذمہ 80 ہزار کا بقایا اور موصیوں کے ذمہ 58 ہزار کا بقایا ہے! اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک لاکھ اڑ میں ہزار بقایا ہے اور ایک لاکھ تین ہزار کا قرضہ ہے۔اگر ستی نہ ہوتی اور پوری رقوم ادا کی جاتیں تو قرضہ ادا کرنے کے بعد 35 ہزار روپیہ جمع ہوتا۔میں نے جو تحریکیں کی ہیں ان کے الفاظ نہیں بلکہ ان کی روح کو سمجھ لیں تو پھر بقایا نہیں رہ سکتا۔بہر حال یہ ضروری ہے کہ چندہ کا بقایا نہ ہو بلکہ کچھ رقم اپنے لئے پس انداز بھی ہو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اخراجات کو کم کر دیں اور کفایت شعاری سے کام لیں اس طرح کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔میں کیوں آپ لوگوں کو پس انداز کرنے کے لئے کہتا ہوں؟ اس لئے کہ آئندہ ہمیں اور زیادہ قربانی کی ضرورت پیش آنے والی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دن ہماری جماعت کے ہر فرد کی جائیداد اور آمد آج سے زیادہ ہو۔جب چندے بڑھا دیئے گئے ہیں اور ادھر پس انداز کرنا ضروری قرار دیا گیا تو آج سے چند سال بعد آج سے زیادہ جائیداد ہر احمدی کے پاس ہوگی۔اگر ہماری جماعت کے 80 فیصدی لوگ بھی پر عمل کریں کیونکہ بعض کے لئے اس پر عمل کرنا ناممکن ہے تو کچھ عرصہ کے بعد ہم زیادہ آسانی کے ساتھ ہے تو کے بعد زیادہ آسانی کے ساتھ اس ہے دشمن کا مقابلہ کر سکیں گے۔257