تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 256

اقتباس از تقریر فرموده 21 اپریل 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کام کرنے والے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ صدرانجمن کے دفاتر کے کارکنوں نے اتنا تعاون نہیں کیا جتنا انہیں کرنا چاہئے تھا۔اگر ناظر بھی اسی طرح کام لیتے تو کام بہت زیادہ ہوتا ہاں ایک ناظر کو اس حد تک کام کرنا پڑا ہے یا اس کے قریب قریب اور وہ خان صاحب فرزند علی صاحب ہیں انہیں راتوں کو جاگنا پڑا اور ایک دفعہ تو ساری رات ہی جاگتے رہے مگر عام طور پر نظارتوں نے اس طرح تعاون نہیں کیا اس لئے پہلے میں ان کو نصیحت کرتا ہوں اور پھر جماعت کو کہ ایک احمدی دین کی خدمت میں پہلے سے زیادہ وقت لگائے۔اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں اگر سپاہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال ان صحابہ کی ہے جن کے مثیل ہونے کے ہم مدعی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جھنڈا وہ لے جو اس کا حق ادا کرے۔ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے دیں۔آپ نے اس کو دے دیا۔جنگ میں جب اس کا وہ ہاتھ کاٹا گیا جس سے اس نے جھنڈا تھاما ہوا تھا تو اس نے دوسرے ہاتھ میں تھام لیا اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو لاتوں میں لے لیا اور جب ٹانگیں کاٹی گئیں تو منہ میں پکڑ لیا آخر جب اس کی گردن دشمن اُڑانے لگا تو اس نے آواز دی دیکھو مسلمانو! اسلامی جھنڈے کی لاج رکھنا اور اسے گرنے نہ دینا! چنانچہ دوسر اصحابی آگیا اور اس نے جھنڈا پکڑ لیا۔آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کر رہا ہے اور سارا زور لگارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اسے گرا دے۔اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑلیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑ لے۔میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر ان بچوں اور نو جوانوں سے جواد پر بیٹھے سن رہے ہیں کہتا ہوں ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو۔گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی لیکن واقعات کی ، زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے ممکن ہے یہ چل جائے تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے؟ (اس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا۔ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں ، ہمیں خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے چنا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی چنیدہ جماعت ہیں ہمیں دنیا سے ممتاز اور علیحدہ رنگ میں رنگین ہونا چاہئے۔صحابہ تہمارے لئے ادب کی جگہ ہیں مگر عشق میں رشک پیاروں سے بھی ہوتا ہے۔پس ہمارا مقابلہ ان سے ہے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش جنگیں کیں اور اپنی جانیں قربان کیں ہم ان کی بے حد عزت اور 256