تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 245
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 20 دسمبر 1935ء ہوں وہی کام جو میں تھوڑے سے وقت میں کر لیتا ہوں اگر کسی دوسرے کے سپرد کروں تو وہ دو گنا بلکہ بعض دفعہ چوگنا وقت لے لیتا ہے بلکہ بعض کام جو میں دو گھنٹے میں کر لیتا ہوں اگر کسی اور کے سپرد کروں تو وہ چوبیس گھنٹے خرچ کر دیتا ہے۔در حقیقت انسانی دماغ میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت رکھی ہے کہ اگر انسان چوکس اور ہوشیار ہو کر بات سنے اور اس پر عمل کرے تو وہ اتنی جلدی بات سمجھ لیتا اور کام کو پورا کر دیتا ہے کہ دوسرے حیران رہ جاتے ہیں۔پس اگر تحریک جدید کے بورڈروں کو ہوشیار بنایا جائے اور ان میں چستی اور بیداری پیدا کی جائے تو ان کا دن چوبیس گھنٹے کا نہ رہے بلکہ اڑتالیس یا بہتر گھنٹے کا بن جائے یا اس سے بھی زیادہ کا۔تو در حقیقت وقت کی زیادتی آپ ہی آپ ہو سکتی ہے اگر لڑکے کو چست بنایا جائے ، اسے جلدی جلدی لکھنے کی عادت ڈال دی جائے ، جلدی جلدی بات سمجھنے کی قابلیت اس میں پیدا کی جائے اور اس کے تمام عقلی قومی کو تیز کر دیا جائے تو وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے میں کام ختم نہیں ہوتا شکوہ کریں گے کہ ہمارے پاس وقت ہے مگر کام نہیں لیکن جلدی سے مراد بے وقوفی نہیں بلکہ سوچ کر اور سمجھ کر جلدی کام کرنا مراد ہے۔وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ نے روحانی آنکھیں دی ہوئی ہوتی ہیں وہ جانتے ہیں کہ جلد بازی اور جلدی سے کام کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت ہی مخلص صحابی گزرے ہیں احمدیت سے پہلے وہ وہابیوں کے مشہور عالم تھے اور ان میں انہیں بڑی عزت حاصل تھی جب احمدی ہوئے تو باوجود اس کے کہ ان کے گزارہ میں تنگی آگئی پھر بھی انہوں نے پروانہ کی اور اس غربت میں دن گزار دئیے بہت ہی مستغنی المزاج انسان تھے انہیں دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ بھی کوئی عالم ہیں بلکہ بظاہر انسان یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوئی کتھی ہیں بہت ہی منکسر طبیعت کے تھے، مجھے ان کا ایک لطیفہ ہمیشہ یادر ہتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں سخت مخالفت ہوئی تو اس کے بعد آپ جب واپس آئے تو مخالفوں کو جس جس شخص کے متعلق پتہ لگا کہ یہ احمدی ہے اسے سخت تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔مولوی برہان الدین صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوٹرین پر سوار کرا کے سٹیشن سے واپس جا رہے تھے کہ لوگوں نے ان پر گوبر اُٹھا اُٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا اور ایک نے تو گوبر آپ کے منہ میں ڈال دیا مگر وہ بڑی خوشی سے اس تکلیف کو برداشت کرتے گئے اور جب بھی ان پر گو بر پھینکا جاتا تھا بڑے مزے سے کہتے تھے کہ ایہہ دن کھوں، ایہ خوشیاں کتھوں اور بتانے والے نے بتایا کہ ذرا بھی ان کی پیشانی پر بل نہ آیا۔غرض بہت ہی مخلص انسان تھے وہ اپنے احمدی ہونے کا موجب ایک عجیب واقعہ سنایا کرتے تھے، احمدی گو وہ کچھ 245