تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 243
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء کیا پہلے دن بچہ اذان کو سمجھ سکتا تھا مگر مہینہ کے بعد کم فہم ہو جاتا ہے کہ تم اس حکم کو نظر انداز کر دیتے ہو؟ یا سمجھتے ہو کہ پہلے دن تو وہ اس قابل تھا کہ اس سے کام لیا جاتا لیکن سال دو سال گزرنے کے بعد وہ نا قابل ہو گیا ہے؟ جو شخص ہمیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ تم بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دو یقینا وہ اس تعلیم کے ذریعہ ہمیں اس نکتہ سے آگاہ کرتا ہے کہ بچہ کا ہر دن تعلیم کا دن ہے اور ہر روز اس کی تربیت کا تمہیں فکر کرنا چاہئے مگر امت محمدیہ میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس نکتہ کو سمجھا؟ ہمیں خدا تعالیٰ نے ایسا معلم دیا تھا جس کا ہر ہر لفظ اس قابل تھا کہ دنیا کے خزانے اس پر نچھاور کر دیے جائیں اس نے ہمیں معرفت کے موتی دیئے ، علوم کے خزانے بخشے اور ایسی کامل تعلیم دی جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا عاجز ہے مگر افسوس ! لوگوں نے اس کی قدر نہ کی۔تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو پیدا ہوا مگر اس کے کان میں اذان نہ کہی گئی پھر کیوں تم نے اب تک یہ نقطہ نہیں سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے کاری کو سب سے بڑی لعنت قرار دیا ہے؟ اور تمہارا فرض ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس لعنت سے بچاؤ۔تم دنیا میں دیکھتے ہو کہ جب کارخانہ والوں کے سپر د کوئی مزدور کیا جاتا ہے تو وہ اس کا نام رجسٹر میں درج کر لیتے ہیں اور اس سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔کیا تم نے بھی دیکھا کہ کارخانہ والوں نے کسی مزدور کا نام رجسٹر میں درج کر لینے کے بعد اسے دو چار سال کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہو؟ اگر نہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے منہ سے کسی بزرگ کے ذریعہ تمہارے بچوں کے کانوں میں اذان دلا کر کہا کہ اب اس کا نام میری امت کے رجسٹر میں درج ہو گیا تم نے اس بچے کا نام رجسٹر میں درج تو کرالیا مگر پھر ا سے کارخانہ سے چھٹی دے دی۔پس اس غفلت اور کوتاہی کا تم پر الزام عائد ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ہر نبی اپنی امت کا ذمہ دار ہوتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ تعلیم دے دی کہ جب کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان کہو تو اس کے بعد قیامت کے دن اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ پوچھے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ تیری امت کے بے کارجو چور، قاتل، جھوٹے ، دغا باز ، فریبی اور مکار بن گئے اور خون چوسنے والی جونکوں کی طرح انہوں نے ظلم سے دوسروں کی اولا دوں کو بھی تباہ کیا ان کی ذمہ داری کس پر ہے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیں گے اے خدا! اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں میں نے تو انہیں کہہ دیا تھا کہ جس دن بچہ پیدا ہوا اسی دن اس کے کان میں اذان دو جس کا یہ مطلب تھا کہ اسی دن بچوں کو کام پر لگا دو اور ان کی نگرانی کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ جواب دے کر اپنی فرض شناسی کا ثبوت دے دیں گے مگر ذمہ داری ان کے 243