تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 235

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود و 20 دسمبر 1935ء عرصہ سے قائم ہے ابھی تک گئی نہیں اور اب بھی وہ اس کام میں برائی محسوس کرتے ہیں۔اگر چہ پہلے جتنی نہیں لیکن ابھی تک یہ بات ان میں قائم ہے کہ وہ کسی شخص کے دینی خدمت کرنے کے معنے یہ مجھتے ہیں کہ اب یہ شخص تمام دنیوی عزتوں سے محروم کر دیا گیا۔حالانکہ اسلام نے یہ بتایا ہے کہ جو دین کی خدمت کرتا ہے حقیقت میں وہی معزز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَيكُمْ یعنی جو شخص اللہ تعالٰی کے کام میں لگ جائے اس کے متقی ہونے میں کوئی شبہ ہی نہی ہوسکتا بشر طیکہ وہ دوسرے اعمال میں بھی تقویٰ اور طہارت ملحوظ رکھے۔اس خیال کے ماتحت ہمارے علما خواہ کتنی بڑی قربانی کر کے لوگوں کے پاس جائیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی دوسرے ملاؤں جیسے ملا ہیں چھوٹے نہ سہی بڑے ملا سہی۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر جو باتوں پر غور کرنے کی بجائے کہنے والے کی شخصیت دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ہمارے علما کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کیا ہے یہ تنخواہ لیتے اور کام کرتے ہیں جس طرح اور لوگ روپوں پر اپنا دین بیچ دیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی اپنا دین بیچ رکھا ہے۔چونکہ وہ خود روپوں پیسوں پر اپنا دین فروخت کرنے کے عادی ہیں اس لئے وہ ہمارے مبلغوں کے متعلق بھی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں چونکہ مرکز کی طرف سے گزارہ ملتا ہے اس لئے انہوں نے اپنا دین بیچ دیا ہے مگر یورپین لوگوں میں یہ بات نہیں ان میں پادری کی عزت قوم کے دوسرے معززین سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہوتی ہے۔ہاؤس آف لارڈز جو نوابوں کا مقام ہے اس میں بھی بڑے بڑے پادری شامل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی موقع یا مجلس ہو اس میں پادری کو شامل کیا جا تا اور اس کا اعزاز کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے باوجود یورپ میں دہریت پھیلنے کے مذہب کی عزت اور اس کا احترام وہاں پایا جاتا ہے۔وہ دہر یہ ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر مگر سمجھتے ہیں کہ ہماری مذہبی روش اس قابل ہے کہ اسے قائم رکھا جائے کیونکہ ملک کی ترقی کے لئے اس روح کا قائم رہنا ضروری ہے۔پس وہ پادریوں کا اعزاز کرتے اور انہیں اس قابل سمجھتے ہیں کہ اپنی آنکھوں پر بٹھا ئیں اور جو کچھ وہ انہیں دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس کی وجہ سے ان پر احسان رکھیں وہ اسے ان کی خدمات کا ادنی معاوضہ سمجھتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں یہ بات نہیں۔میں اپنی جماعت میں بھی دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے پرانے رسم و رواج کے ماتحت جب کوئی ہم میں سے بھی دنیاوی لحاظ سے کچھ عزت حاصل کر لیتا ہے تو وہ سلسلہ کے مبلغین کو ادنی سمجھنے لگ جاتا 235