تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 223
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء ہزاروں غربا کی دعائیں ملیں گی ، زیادہ ثواب کا موجب ہوسکتا ہے۔پس وقف کنندگان کو اگر تعلیم پر یا کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا ثواب کہاں گیا ؟ مثلاً میں نے ان میں سے ایک کو تحریک جدید کے بورڈنگ کا سپر نٹنڈنٹ بنایا ہے۔وہ اگر بچوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے رات دن ایک کرے تو وہ سینکڑوں مبلغوں میں چنندہ مبلغ کے برابر ثواب حاصل کر سکتا ہے۔امداد بے کار ان کے متعلق میرا ارادہ یہ ہے کہ راس المال کو خرچ نہ کیا جائے بلکہ بعض نفع مند کاموں پر روپیہ لگا کر جو نفع حاصل ہو وہ اس مد میں خرچ کیا جائے اور بے کاروں کے لئے لوہار، ترکھان، چمڑے کا کام۔مثلاً اٹیچی کیس اور بوٹ وغیرہ بنانا سکھائے جانے کا انتظام کیا جائے۔ہم سالانہ، قادیان کے غربا پر پندرہ ہزار روپیہ کے قریب صرف کرتے ہیں، پانچ ہزار تو زکوۃ کا ہوتا ہے پھر کئی ایک کو لنگر خانہ سے روٹی دی جاتی ہے پھر دار الشیوخ کے طلبا ہیں جن کے لئے جمعہ کے روز آٹا جمع کیا جاتا ہے، عیدین کے موقع پر بھی کچھ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور میں کچھ رو پیدا اپنے پاس سے بھی خرچ کرتا ہوں اور یہ سب ملا کر قریباً پندرہ ہزار ہو جاتا ہے، اس کی بجائے اگر ہم فی الحال پانچ ہزار بھی تجارتی کاموں پر لگا دیں تو اس سے بہت زیادہ فوائد ہوں گے، بے کاروں کے اندر کام سیکھنے کے بعد قربانی کی روح اور خود اعتمادی پیدا ہوگی اور مانگنے کی وجہ سے جو خست پیدا ہو جاتی ہے وہ دور ہوگی اور پانچ ہزار روپیہ سے ہم سو دو سو آدمی پال سکتے ہیں اور ایسے کام نکالے جائیں گے جن میں عورتیں اور نا بینا اشخاص بھی حصہ لے سکیں۔مثلاً ٹوکریاں بنانا ، چکیں بنانا، آزار بند بنانا وغیرہ یہ ایسے کام ہیں جنہیں عورتیں بھی کر سکتی ہیں۔اگر شروع میں ہمیں نقصان بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔مثلاً ہم نے دس ہزار خرچ کیا اور آٹھ ہزار کی آمد ہوئی تو پھر بھی ہم نفع میں رہے کیونکہ ان لوگوں کی اگر ہم روپیہ سے امداد کرتے تو غالبا پانچ ہزار سے کم خرچ نہ ہوتی۔اگر اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں برکت دے تو موجودہ بے کاروں کو کام پر لگانے کے بعد باہر سے بھی بے کاروں کو بلایا جا سکتا ہے اور اس طرح یہ کام قادیان کی ترقی کا موجب بھی ہو سکتا ہے۔پس اس کام کے لئے بھی ایک شخص کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں زندگی وقف کرنے والا ہو۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ تکلیف سے گھبرا جاتے ہیں یا کہیں زیادہ تنخواہ کی امید ہو تو چلے جاتے ہیں، بعض کام سے جی چراتے ہیں، بعض کام کے عادی ہی نہیں ہوتے حالانکہ وقف کے معنی یہ ہیں کہ سمجھ لیا جائے اب اسی کام میں موت ہوگی نہ دن کو آرام ہو نہ رات کو نیند آئے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ حقیقی جوش سے کام کرنے والے کی نیند اکثر خراب ہو جایا کرتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی دفعہ چار پائی 223