تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 224
خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پر لیٹ کر کئی کئی گھنٹے فکر سے نیند نہیں آتی اور سلسلہ کے کاموں کے متعلق سوچنے اور فکر کرنے میں دماغ لگا رہتا ہے۔پس کام کرنے والے کے لئے نیند بھی نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے جو کہا ہے کہ مومن سوتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کی فکر میں ہی تھک کر سو جاتے ہیں اس لئے نیند میں بھی ان کا دماغ دین کے کام میں لگا رہتا ہے۔پس وہ نوجوان آگے آئیں جو دین کے کام میں مرنا چاہیں۔یہ غلطی ہے کہ بعض لوگ چھ سات گھنٹے کام کرنے کو احسان سمجھ لیتے ہیں اور پھر نا کامی کو قسمت پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ گستاخ اور بے ادب ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ نا کامی خدا کی طرف سے آتی ہے خدا سے ہمیشہ کامیابی آتی ہے اور جو نا کامی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی بہتک کرنے والا ہے۔پس جب تک کوئی یہ نہ سمجھے کہ ناکامی کا میں خود ذمہ دار ہوں وہ اپنے آپ کو وقف نہ کرے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ناکامی ہوئی تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ کیا کامیابی ہمارے اختیار میں ہے؟ لیکن ایسے خیالات سے قوم میں سستی پیدا ہوتی ہے۔یوروپین قوموں میں ناکامی کے عذر کو قبول نہیں کیا جاتا اور جو نا کام ہوا سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے کہ بس تم اس کام کے اہل نہیں اس لئے تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو کام بھی اس کے سپرد کیا جائے اس میں کامیاب ہو کر دکھائے۔دیکھو! زمینیں ہماری اچھی ہیں اور کثرت سے ہیں مگر ہمارے ہاں زمیندار اگر کوئی ملازم رکھیں تو اسے چند من غلہ کے سوا کوئی اجرت نہیں دے سکتے مگر امریکہ والے زمیندار اپنے ملازموں کو دو دوسو روپیہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پھر وہ اتنا غلہ پیدا کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کا دیوالیہ نکال دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ پاگل ہو کر کام کرتے ہیں۔میں نے لنڈن کی گلیوں میں کسی آدمی کو چلتے نہیں دیکھا سب بھاگے پھرتے ہیں جب میں وہاں تھا تو ایک دن مجھے سے حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہاں کسی آدمی کو چلتے بھی دیکھا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گو یا کسی قریبی کے مکان کو آگ لگی ہوئی ہے اور اسے بجھانے جارہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے وہ لوگ چلتے ہیں۔پس مجھے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو خود پاگل ہوں اور دوسروں کو پاگل کر دیں۔اتنے بڑے ثواب کا کام ہے کہ ایسے شخص کا نام صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے اور اگر روپیہ آجائے تو ایسے لوگوں کی خدمت کرنے سے بھی سلسلہ کو دریغ نہیں ہوسکتا۔مثلاً اگر پندرہ ہزار منافع ہو جائے تو اس میں سے کام کرنے والے کو چار پانچ سو یا ہزار دینے میں بھی کیا عذر ہو سکتا ہے؟ گویا اس کام میں دنیوی طور پر بھی فائدہ ہونے کا امکان ہے۔جو دوست ان کاموں سے واقف ہوں 224