تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 221

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء ہیں۔ضرورت صرف حوصلہ کی ہے مگر افسوس! کہ بعض وہ لوگ جن کو میں نے منتخب کیا حوصلہ مند نہیں ثابت ہوئے۔سٹریٹس سیٹلمنٹ میں تین نوجوانوں کو بھیجا گیا ان میں سے دو اس طرح وہاں جا کر غائب ہو گئے ہیں کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں۔بہر حال وہاں تین احمدی پہنچ چکے ہیں اور چاہے وہ کاروبار میں ہی پھنس گئے ہوں اور اس جوش سے تبلیغ نہ کرتے ہوں اور اپنی رپورٹوں کو اس طرح قائم نہ رکھ رہے ہوں مگر پھر بھی ان کے ذریعہ احمدیت کا نام تو ضرور پھیل رہا ہے۔ان سے ملنے والوں میں ہی احمدیت پھیلے گی اور بعض خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ چھیل رہی ہے اور احمدیت تو کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک دفعہ دل میں گڑ کر پھر نکل سکے اس لئے وہ گواتنا جوش نہ دکھا ئیں پھر بھی کامیابی کی بہت امید ہے۔اس طرح رقم بھی بہت تھوڑی خرچ ہوتی ہے سال بھر کے لئے ایک مبلغ بھیجنے پر اڑھائی تین ہزار کا خرچ ہوتا ہے اور ان کے بھیجنے پر تین چار سو سے زیادہ نہیں ہوا اور وہ کچھ نہ کچھ کام کر رہے ہیں۔اگر کسی وقت اللہ تعالیٰ جوش پیدا کر دے تو اور زیادہ کامیابی کی امید ہے ورنہ خدا تعالی مقامی لوگوں میں سے ہی ان کے ذریعہ کوئی اچھا کام کرنے والا آدمی پیدا کر دے گا۔میں نو جوانوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر وسعت نظر اور بلند ہمتی پیدا کرو۔دیکھو! انگریز کس طرح دنیا پر پھیل گئے ہیں؟ کسی وقت وہ ایسے ہی کمزور تھے جیسے آج ہم ہیں۔یہاں کے لوگ اس کو بات سے چڑتے ہیں کہ انگریز غیر ملک سے آکر یہاں حکومت کرتے ہیں مگر میں کہتا ہوں یہ اعتراض کرنے والے کیوں نہ ان کے ملک میں چلے گئے ؟ انگریز اب چار کروڑ ہیں مگر ا اس وقت صرف کروڑ ڈیڑھ کروڑ ہی تھے۔مگرتم تینتیس کروڑ تھے اور باہر نہ نکل سکے تمہیں کس نے روکا تھا کہ باہر نکلو؟ خدا کا قانون یہی ہے کہ جو دنیا کے لئے باہر نکلتا ہے خدا اس کے آگے دنیا کو ڈال دیتا ہے اور دنیا کی حکومت اسے عطا کر دیتا ہے اور اسی طرح جو دین کے لئے باہر نکلتا ہے اسے دین کی حکومت عطا کر دیتا ہے۔انگریز دنیا کے لئے باہر نکلے خدا تعالیٰ نے دنیا انہیں دی تم دین کے لئے نکلو گے تو خدا تمہیں دین عطا کرے گا۔میں نے افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ مبلغین کلاس کے سوا باقی مدرسہ احمدیہ اور مولوی فاضل کلاس کے طلبا دینی تعلیم سے بہت کم واقف تھے انہیں دوران تعلیم میں بھی تبلیغ کے لئے باہر بھیجتے رہنا چاہئے تا وہ وسیع مطالعہ کریں اور واقفیت بڑھے۔شعبہ تعلیم کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ خالی مولوی فاضل کسی کام کے نہیں اور وہ ہر جگہ ناکام ہوں گے۔یہ کوئی عذر نہیں کہ امتحان کی تیاری کراتے ہو اس تیاری کے ساتھ ہی دینی تعلیم ہونی چاہئے۔مدرسہ احمدیہ اور مولوی فاضل کلاس کے بعض طالب علم دینی تعلیم میں بہت کچے ثابت ہوئے 221