تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 217
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1935ء بہر حال یہ رقم واپس لینی ہوگی چندہ میں نہیں دی جاسکے گی۔ہاں یہ مقرہ کمیٹی کا اختیار ہوگا کہ خواہ نقد رو پیری دے یا جائیداد کی صورت میں لیکن چوتھے سال بہر حال جو شخص امانت فنڈ کو ختم کرنا چاہے اسے یہ رقم واپس دی جائے گی۔یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص رقم یا جائیداد پر قبضہ کر کے خود اپنی خوشی سے اسے چندہ میں دے دے مگر امانت جمع کرانے والے کے قبضہ میں آنے سے پہلے اس کی خواہش کے باوجود بھی اسے چندہ میں ہے۔قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ قبضہ میں آنے کے بعد بھی انسان کی نیت بدل جاتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے آپ کے ایک پرانے صحابی حکیم فضل الدین صاحب تھے، آج کل کے نوجوان تو شاید ان سے واقف نہ ہوں، ان کے تعارف کے لئے بتاتا ہوں کہ وہ بہت پرانے اور مخلص صحابی تھے حضرت خلیفہ اول کے دوست تھے اور ان کے ساتھ ہی یہاں آگئے ان کی دو بیویاں قادیان آنے سے پہلے کی تھیں ایک شادی انہوں نے قادیان آکر کی ، پہلی بیویوں کے متعلق انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ ان کا مہر پانچ پانچ سو تھا جو انہوں نے معاف کر دیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ معافی نہیں آپ ان کی جھولی میں ڈال دیں اور پھر اگر وہ لونا دیں تو معافی کہلائے گی۔انہوں نے کہا کہ حضور وہ ہمیشہ یہ کہتی رہتی ہیں کہ ہم نے معاف کیا۔حضور نے فرمایا اس طرح کی معافی کوئی معنی نہیں رکھتی ہمارے ملک کی عورتیں جب دیکھتی ہیں کہ مہر وصول تو ہوگا نہیں تو پھر وہ یہ خیال کر کے کہ احسان ہی کیوں نہ کر دیں، کہہ دیتی ہیں کہ معاف کیا۔اس پر حکیم صاحب مرحوم نے حضرت خلیفہ اول یا کسی اور سے قرض لے کر ان کی جھولی میں پانچ پانچ سوروپیہ ڈال دیا اور کہا کہ تم دونوں نے مجھے معاف تو پہلے سے ہی کر دیا ہوا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ پہلے ان کی جھولی میں روپیہ ڈال دو پھر وہ معاف کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں اس لئے میں نے رو پی تم کو دے دیا ہے اب تم اگر چاہو تو یہ روپیہ مجھے دے سکتی ہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اب تو ہم واپس نہیں کریں گی ہم تو یہ بھی تھیں کہ مہر کوئی دیتا تو ہے نہیں چلو معاف ہی کر دیں۔تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیان میں جو کچھ دیا جائے وہ چندہ ہی ہے اسے واپس کیا لینا ہے مگر میں یہ روح پیدا کرنا نہیں چاہتا اس لئے یہ روپیہ بہر حال واپس ہوگا اس کے بعد اگر کوئی دیتا ہے تو ہم اسے روک نہیں سکتے لیکن اس تحریک میں کوئی جس وقت سے شامل ہو وہیں سے اس کے تین سال شروع ہوں گے اور یہ فنڈ سلسلہ کی عظمت و شوکت اور مالی حالت کی مضبوطی کے لئے جاری رہے گا اور اس کی طرف جماعت کی مزید توجہ بلکہ بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔پچھلے سال میں نے وقف کی بھی تحریک کی تھی اس پر سینکڑوں نو جوانوں نے اپنے 217