تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 216

خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اس کے بعد میں امانت فنڈ کی طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔پچھلے سال بھی میں نے اس کے متعلق توجہ دلائی تھی مگر احباب نے اتنی توجہ نہیں کی جتنی کرنی چاہئے تھی۔اس فنڈ میں ساڑھے پانچ ہزار ماہوار کے قریب روپیہ آتا ہے میں نے بتایا تھا کہ یہ چیز چندے سے کم اہمیت نہیں رکھتی اور پھر اس میں یہ سہولت ہے کہ اس طرح تم پس انداز کر سکو گے۔مومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کرتا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا تھا کہ اپنی آمدنی کا کم سے کم 1/4 حصہ جمع کرتے رہو، صحیح نسبت مجھے اس وقت یاد نہیں 1/4 یا 1/3 لکھا تھا کیونکہ جب تک پس انداز نہ کرو گے ثواب کے کاموں سے محروم رہو گے۔پس مومن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کر سکنے کی نیت سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرتا رہے اگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے جائیداد بڑھاتا ہے تو وہ دنیا دار نہیں کہلا سکتا۔جو شخص دن میں چھ کی بجائے دس گھنٹے اس لئے کام کرتا ہے کہ دین کی خدمت زیادہ کر سکے اسے دنیا دار کون کہہ سکتا ہے؟ وہ تو پکا دین دار ہے اسی طرح جو دین کی خاطر روپیہ جمع کرتا ہے اسے تم بخیل نہیں کہہ سکتے۔جو شخص آواز آنے پر بھی مال حاضر نہیں کرتا وہ بے شک دنیا دار کہلا سکتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ یلم سے ایک شخص نے مالدار ہونے کے لئے دعا کروائی مگر پھر زکوۃ کے لئے آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا تو کہہ دیا کہ ہم خود اپنے اخراجات چلائیں یا ز کوۃ دیں؟ لیکن اگر کوئی شخص اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے پاس جتنی جائیداد ہے اتنی ہی قربانی کی روح اس کے اندر موجود ہے تو اس کا جائیداد پیدا کرنا بھی دین کی خدمت ہے اور اس کا دنیا کمانے میں وقت لگانا نماز سے کم نہیں۔پس جو شخص امانت فنڈ میں اس لئے روپیہ جمع کراتا ہے کہ اس عرصہ میں نیت کا ثواب حاصل کرتا رہے اور جائیداد پیدا ہو جانے یا رقم جمع ہو جانے کے بعد خدمت دین میں زیادہ حصہ لینے کے قابل ہو سکے وہ دنیا دار نہیں اس لئے جو شخص ایک روپیہ تک بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے اسے ضرور لینا چاہئے اور کوشش کرو کہ یہ رقم اور بڑھے۔میں نے پچھلے سال دس ہزار تک کہا تھا پس کوشش کرو کہ یہ دس ہزار تک پہنچ جائے بلکہ لاکھوں تک بڑھ جائے اس میں تمہارا اپنا بھی فائدہ ہے اور دین کی شوکت میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے لیکن یا درکھنا چاہئے کہ یہ چندہ نہیں اور نہ چندہ میں وضع کیا جا سکتا ہے۔بعض لوگ اب مجھے لکھ رہے ہیں کہ ہم نے جو روپیہ جمع کرا رکھا ہے وہ تحریک جدید کے چندہ میں وضع کر لیا جائے لیکن یہ نہیں ہوسکتا یہ برابر تین سال تک چلے گا جو آج اس میں شامل ہو گا اس کے لئے بھی تین سال تک جاری رہے گا سوائے اس کے کہ ، خدا نخواستہ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے لئے ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ وہ شامل نہ رہ سکے اور پھر تین سال کے بعد بھی 216