تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 212
خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کرے سننے والا یہی کہے گا کہ اس کا اعتبار کون کر سکتا ہے؟ میں ایک دفعہ کشمیر گیا وہاں مختلف رنگوں کی لوئیوں سے گئے بنائے جاتے ہیں، میں نے بھی ایک گنا بنانے کے لئے ایک شخص کو کچھ پیشگی دی لیکن جب وہ شخص گیا تیار کر کے لایا تو وہ طے شدہ لمبائی، چوڑائی سے چوتھائی حصہ کم تھا میں نے اسے کہا کہ یہ تم نے ٹھیک نہیں بنایا اور میرے کام کا نہیں اس پر وہ بار بار یہ شور مچائے کہ جی میں مسلمان ہوں۔گویا مسلمان کی یہ علامت سمجھی جاتی ہے کہ بددیانت ہو؟ اس کو خطرہ تھا کہ شاید یہ اب گہا نہ لے اس لئے وہ بار بار یہ کہ رہا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے اس سے اور چڑ پیدا ہو اور میں اس سے کہوں کہ تو یہ کہ کر اسلام کو کیوں بدنام کرتا ہے کہ اسلام اور وعدہ خلافی لازم وملزوم چیزیں ہیں ؟ تو اب یہ زمانہ ہے کہ مسلمان کی بات کا اعتبار ہی کوئی نہیں رہا اور یہ حالت اسی وقت سے ہوئی ہے جب سے یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اسلام کے لئے قربانی کا زمانہ کسی وقت ختم بھی ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی کوئی تحریک کبھی ختم نہیں ہوتی ہاں اس کی شکلیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔انسان پہلے بچہ ہوتا ہے پھر لڑکپن آتا ہے پھر جوان پھر ادھیڑ اور پھر بوڑھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے کیا ہر شکل پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ختم ہو گیا ؟ ہاں ہر شکل کی تبدیلی پر مختلف غذا اور مختلف لباس کی ضرورت رہتی ہے۔یہی حال خدائی تحریکات کا ہے اور جب تک یہ نقطہ نگاہ نہ سمجھا جائے اس وقت تک تباہی دوبارہ آجاتی ہے اور جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے وہ مذہب کو تباہ کرنے والے ہوتے ہیں۔خدا تعالی کی طرف سے جو تحریکات ہوتی ہیں ان کی صرف شکلیں بدلتی ہیں وہ ختم کبھی نہیں ہوتیں اور نہ وہ افراد سے وابستہ ہوتی ہیں میں جاؤں گا تو خدا تعالیٰ کسی اور کو کھڑا کر دے گا پھر وہ جائے گا تو خدا تعالیٰ اور کو کھڑا کر دے گا اور جو یہ کہے گا کہ ہم نے اپنا کام ختم کرلیا ہے وہ اسلام کو فنا کرنے والی تحریک کا بانی ہوگا اور اس تحریک کا آدم کہلائے گا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کے دوبارہ احیا کے آدم تھے اور ہر وہ شخص جو اپنی ہر چیز کو اسلام پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے اپنے حلقہ میں اسلام کو زندہ رکھنے کی تحریک کے لئے بمنزلہ آدم کے ہے اسی طرح جو شخص یہ خیال کرلے گا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے اس کا کام ختم ہو گیا وہ اسلام کو فنا کرنے کی تحریک کا آدم ہوگا۔جس طرح ہر نیکی جو اسلام کے احکام کی تعمیل میں کی جاتی ہے خواہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو یا غیر مسلموں کی طرف سے کیونکہ کئی غیر مسلم بھی قرآن کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور خواہ وہ پہلی صدی میں ہو یا دسویں میں یا اس صدی میں یا آئندہ کسی صدی میں اس کا ثوار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا ہے اور قیامت تک کی تمام نیکیوں کا ملتا رہے گا اور جس طرح آئندہ ہر ایک 212