تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 209

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود: 29 نومبر 1935ء کندن بناتا اور ترقی دیتا ہے۔سو نہ صرف یہ کہ ہمارا مقصد اتنا اعلیٰ ہے کہ کوئی قربانی اس کے مقابلہ میں حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ ہم فنا نہیں ہوتے بلکہ شکل تبدیل کر کے اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتے ہیں اس لئے ہماری قربانیاں اور تکلیفیں ایسی نہیں کہ انہیں مد نظر رکھتے ہوئے اصل مقصد کو بھلا دیا جائے۔پس ضرورت صرف نقطہ نگاہ کی تبدیلی کی ہے۔اسلام احمد بیت کا نام ہے وہی اسلام جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لائے مگر اسلام نام اس چیز کا نہیں کہ ظہر اور عصر کی نمازوں کی چند رکعتیں پڑھ لو یہ تو قشر ہے۔اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کی صداقت اور اس کے نور کے دنیا میں قائم ہو جانے کا اور نور الہی کی شعاعوں کے پھیلنے میں جو چیزیں حائل ہیں ان کو مٹا دینے کا۔اس غرض کے لئے ایک ظاہری شکل بھی پیدا کی جاتی ہے جو نماز ہے۔جیسے فوج وردیوں کا ، سلام کرنے کا یا مارچ کرنے کا نام نہیں بلکہ نام ہے اس اسپرٹ کا کہ ملک کی خاطر اگر تمام انسانوں کو بھی ہلاک کرنا پڑے تو کر دیا جائے اور ذرا دریغ نہ کیا جائے۔وہ وردیاں اور وہ سلام اور وہ مار چنگ کس کام کا جس کے پیچھے یہ روح نہیں ؟ اگر یہ روح موجود ہے تو اس قشر کی بھی کوئی قیمت ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔دیکھو! بادام کے چھلکے کی قدر تم اس وقت تک کرتے ہو جب تک مغز اس کے اندر ہوتا ہے جب وہ نکال دیا جائے تو چھلکے کو فورا پھینک دیا جاتا ہے۔بچپن میں میں نے ایک رؤیاد دیکھا تھا، یہ غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے یا علیہ السلام کی وفات کے قریب یعنی چار پانچ ماہ کے اندر ہی، اُس وقت حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں ہی رہا کرتے تھے، مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کی طرف جو گلی جاتی ہے اُس کے اوپر جو کمرہ اور صحن ہے اس میں آپ رضی اللہ عنہ کی رہائش تھی، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس صحن میں ہوں اور اس کے جنوب مغرب کی طرف حکیم غلام محمد صاحب امرت سرکی جو حضرت خلیفہ اول کے مکان میں مطلب کیا کرتے تھے کھڑے ہیں، ان کو میں سمجھتا ہوں کہ خدا کے تصرف کے ماتحت ایسے ہیں جیسے فرشتہ ہوتا ہے، میں تقریر کر رہا ہوں اور وہ کھڑے ہیں۔میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے جسے میں سامعین کو دکھاتا ہوں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اور لوگ بھی ہیں مگر نظر نہیں آتے گو یا ملائکہ یا اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جو نظروں سے غائب ہیں، میں انہیں وہ آئینہ دکھا کر کہتا ہوں کہ خدا کے نور اور انسان کی نسبت ایسی ہے جیسے آئینہ کی اور انسان کی۔آئینے میں انسان اپنی شکل دیکھتا ہے اور اس میں اس کا حسن ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس کی خوب قدر کرتا 209