تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 208

خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تحقیقاتوں کے نتیجہ میں اس فاصلہ میں اور کتنا اضافہ ہو جاتا ہے۔آج سے چند سال قبل یہ فاصلہ صرف تین ہزار روشنی کے سالوں کا سمجھا جاتا تھا۔اتنے بڑے عالم کو اللہ تعالیٰ نے جو انسان کی خدمت پر لگایا ہوا ہے تو یقیناً انسانی اعمال اس خدمت کا مقصود نہیں ہو سکتے۔ذرا غور تو کرو کہ کروڑوں سال سے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ایک رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کو خاص تاریخوں میں گرہن لگے تا اس گمنام بستی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کی سچائی دنیا پر ثابت ہو۔اسے دیکھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ انسانوں کے لئے ہو رہا ہے؟ نہیں بلکہ سچائی کی خاطر ہو رہا ہے، اس لئے ہو رہا ہے کہ تا خدا کا نور دنیا میں پھیل سکے۔پس کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ جس امر کے لئے خدا تعالیٰ نے اس قدر وسیع نظام بنایا ہے اسے معمولی عذروں سے وہ نظر انداز کر دے گا؟ کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ اتنا بڑ ا سلسلہ چلانے کے بعد تمہارا یہ عذر قبول کرلے گا کہ مخالفت اور مشکلات بہت تھیں اس لئے ہم چپ کر کے بیٹھ گئے یا یہ عذر کسی کا قبول کر لے گا کہ ایک عرصہ تک قربانی کے بعد میں آرام کرنے کے لئے بیٹھ گیا تھا ؟ ایک ادنی سی چیز بنانے کے لئے ہزاروں روپیہ کی قربانی کرنی پڑتی ہے، ایک چھوٹے سے ملک کے لئے ہزاروں لاکھوں جانوں کو قربان کر دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نور کو پھیلانے اور دائمی سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے کہ قربانی کے وقت ہماری طرف سے کوئی عذر قبول کیا جا سکے؟ ہمیشہ اس مقصد کو سامنے رکھو جس کے لئے خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے۔جب صبح کے وقت گھروں میں آگ جلائی جاتی ہے تو تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں تمہاری بہنیں اور تمہاری بیویاں یا جن کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے ان کی ملازم عورتیں جب او پلے کو تو ڑ کر آگ میں ڈالتی ہیں تو کیا کوئی رحم ان کے دل میں پیدا ہوتا ہے یا اس کی کوئی اہمیت تم سمجھا کرتے ہو؟ پس اچھی طرح یا درکھو کہ جس طرح اس وقت کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اوپلے کو آگ میں ڈالا جا رہا ہے اور یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہے اسی طرح اس مقصد کے حصول کے لئے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے یعنی اسلامی صداقتوں کے احیا کے لئے تمہاری قربانیوں کی کوئی بھی قیمت نہیں کیونکہ اس مقصد کے مقابلہ میں جس کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے یہ قربانیاں کچھ بھی نہیں۔رحم وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قربان ہونے والی چیز اس سے زیادہ قیمتی ہو جس کے لئے وہ قربان کی جاتی ہو یا وہاں کہ قربان ہونے والی شے فنا ہو رہی ہو۔دیکھو او پلا فنا ہوتا ہے مگر تمہارے دل میں کوئی رحم پیدا نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ اپنے سے بہتر وجود پیدا کرنے میں مدد دے رہا ہوتا ہے مگر ہماری قربانی تو او پلے کی قربانی کے برابر بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہمیں آگ میں ڈال کر فنا نہیں کرتا بلکہ 208