تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 205
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده 29 نومبر 1935ء جماعت احمدیہ کی قربانیوں کی کوئی حد نہیں مقرر کی جاسکتی تحریک جدید کے دوسرے سال کیلئے مالی قربانی کا مطالبہ خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1935ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں چندہ تحریک جدید کے متعلق اعلان کیا تھا۔اس وقت تک اس کے متعلق جو وعدے آچکے ہیں وہ میرے اندازہ میں اٹھارہ ہزار کے ہیں ان میں صرف تین یا چار جماعتوں کے وعدے ہیں باقی افراد کی طرف سے ہیں۔ان کی زیادتی کا میں صحیح اندازہ تو نہیں کر سکتا مگر اس وقت تک کے وعدوں سے پتہ لگتا ہے کہ اس سال پینتیس فیصدی کی زیادتی ہے یعنی اٹھارہ ہزار کے وعدے جن لوگوں کی طرف سے ہیں گزشتہ سال ان کے وعدے ساڑھے تیرہ ہزار کے تھے اور ابھی ان میں وہ وعدے بھی شامل ہیں جو یا تو گزشتہ سال کے برابر ہیں اور یا گزشتہ سال سے کم ہیں ورنہ افراد کو لیا جائے تو بعض نے ڈیوڑھا بعض نے دُگنا وعدہ کیا ہے اور بعض نے اس سے کم زیادتی کی ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض مخلصین نے گزشتہ سال اپنا سارا اندوختہ دے دیا تھا اور جس نے اپنا سارا اندوختہ گزشتہ سال دے دیا ہو وہ یقیناً اس سال گزشتہ سال کے برابر حصہ نہیں لے سکے گا۔ان کے علاوہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو گز شتہ سال کچھ نہ کچھ ذرائع آمدنی رکھتے تھے مگر اس سال نہیں رکھتے۔پھر بعض ایسے بھی ہیں جن پر اس سال میں کوئی مالی بوجھ پڑ گیا ہے باقی لوگوں میں سے جو دینے کے قابل تھے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے اپنا چندہ بڑھایا ہے بعض نے کم زیادتی کی ہے مگر اس اصول کو مد نظر رکھا ہے جس کا میں نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ زیادتی نہ کر سکیں وہ قلیل زیادتی ضرور کر دیں تا ان کا قدم پیچھے نہ رہے۔مثلاً دس دینے والے ساڑھے دس کر دیں مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کافی حصہ ایسا ہے جس نے ہیں، پچیس ، پچاس فیصد کی زیادتی کی ہے اور بعض نے دو گنا کر دیا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس تحریک کی غرض عارضی نہیں ہے وہ وقت آ رہا ہے جب ہمیں ساری دنیا کے دشمنوں سے لڑنا پڑے گا۔دنیا سے مراد یہ نہیں کہ ہر فرد سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہر قوم اور ہر ملک میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں میرا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک میں ہمارے لئے رستے بند کرنے کی کوششیں 205