تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 206

خطبه جمعه فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہو رہی ہیں پس ہماری جنگ ہندوستان تک محدود نہ رہے گی بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہمیں اپنے پیدا کرنے والے اور حقیقی بادشاہ کی طرف سے جنگ کرنی ہوگی۔اگر تو احمد بیت کوئی سوسائٹی ہوتی تو ہم یہ کہہ کر مطمئن ہو سکتے تھے کہ ہم اپنے حلقہ اثر کومحدود کر لیں گے اور جہاں جہاں احمدی ہیں وہ سمٹ کر بیٹھ جائیں گے مگر مشکل یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے کہ جو بات اس کی طرف سے آئی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچا ئیں اور ہم نے اسے پہنچانا ہے۔ہمارا پروگرام وہ نہیں جو ہم خود تجویز کریں بلکہ ہمارا پروگرام ہمارے پیدا کرنے والے نے بنایا ہے اور ہم اس میں کوئی شععہ بھی کم و بیش نہیں کر سکتے۔مجھے یاد ہے غالباً یہ 1911 ء یا 1912ء کی بات ہے کہ ایک دن شیخ یعقوب علی صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ خواجہ صاحب سے میری باتیں ہوئی ہیں اور میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ تک ان باتوں کو پہنچا دوں ، اس وقت اختلافات شروع ہو چکے تھے اور نبوت و کفر و اسلام کے مسائل زیر بحث تھے میرا خیال ہے کہ یہ 1911ء یا 1912 ء کے ابتدا کی بات ہے کیونکہ اس کے بعد خواجہ صاحب ولایت چلے گئے تھے، ان مسائل کے زیر بحث آنے کی وجہ سے جماعت میں ایک پریشانی اور حیرانی سی پیدا ہو چکی تھی کہ اب کیا بنے گا؟ شیخ صاحب نے خواجہ صاحب سے گفتگو کی اور مجھے کہا کہ خواجہ صاحب نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ ہر طرح صلح کے لئے تیار ہیں اور کہ اگر میں بھی تیار ہوں تو انہیں کوئی انکار نہیں۔شیخ صاحب پر ان کی اس گفتگو کا اتنا اثر تھا کہ انہوں نے گھر پر آکر ہی مجھے بلایا، وہ دروازہ اب نہیں رہا پہلے مسجد مبارک کو جو چھوٹی سیڑھیاں چڑھتی ہیں ان کے ساتھ ایک دروازہ ہوا کرتا تھا اور اس سے گزر کر ایک چھوٹا سا صحن تھا اس کے آگے پھر ایک دروازہ تھا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آتے جاتے تھے، شیخ صاحب نے اس اندر کے دروازہ پر آکر دستک دی اور مجھے بلوایا اور کہا کہ خواجہ صاحب سے میری گفتگو ہوئی ہے اور میری طبیعت پر گہرا اثر ہے کہ خواجہ صاحب کی بھی خواہش ہے کہ کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے فساد دور ہو جائے۔میں نے انہیں کہا کہ فساد تو میں بھی نہیں چاہتا آپ خواجہ صاحب سے پوچھ لیں کہ اگر تو ان سے جھگڑا کسی دنیوی چیز کے لئے ہے، کوئی چیز میرے پاس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے یہ انہیں مل جانی چاہئے تو میں بغیر کسی عذر کے ان کو دے دیتا ہوں ان کو اختیار ہے کہ مجھ سے پوچھے بغیر اسے لے جائیں لیکن اگر اختلاف عقائد کے متعلق ہے تو یہ نہ ان کا حق ہے نہ میرا کہ بعض باتوں کو چھوڑ کر کوئی درمیانی راہ اختیار کرلیں اور اس طرح صلح نہیں ہوگی بلکہ فساد بڑھے گا اور ہم دونوں دین کے دشمن اور غدار ثابت ہوں گے۔206