تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 202
تقریر فرموده 17 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول کے لئے جمع ہوں۔پس یہ کام چونکہ ایسا نہیں جو مسلسل جاری رہ سکے اس لئے لوگوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے کہ مبلغ فارغ رہتے ہیں۔حالانکہ ان حالات میں ان کا فارغ رہنا قدرتی امر ہے۔دراصل انہوں نے اپنے فرض کو سمجھا ہی نہیں وہ کہہ دیتے ہیں جب ہمارے پاس کوئی آیا ہی نہیں تو ہم سمجھا ئیں کسے ؟ اس وجہ سے ہم فارغ رہتے ہیں لیکن اگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے کہ ان کا کام صرف تقریر کرنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کے اخلاق کی تربیت کرنا ہے۔انہیں تبلیغ کرنے کے قابل بنانا ہے اور پھر وہ اپنا تصنیف کا شغل ساتھ رکھیں، جہاں جائیں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہیں، کوئی ادبی مضمون لکھیں کسی مسئلے کے متعلق تحقیقات کریں ، ضروری حوالے نکالیں، تاریخی امور جمع کریں تو پھر ان کے متعلق یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ فارغ رہتے ہیں۔یہ تاریخی مختلف کام ہیں جن کی طرف ہمارے مبلغین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے اگر کوئی مبلغ کہیں جاتا اور وہاں تصنیف کا شغل بھی جاری رکھتا ہے تو لوگ یہ نہ کہتے کہ وہ فارغ رہا بلکہ یہی کہتے کہ لکھنے میں مصروف رہا مگر مبلغین کو اس طرف توجہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تصنیف کا کام نہیں ہو رہا۔ممکن ہے اس وقت بھی یہاں بعض مبلغ ہوں مگر دعوت چونکہ ان کی طرف سے ہے جو آئندہ مبلغ بننے والے ہیں اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہی طریق اختیار نہ کریں جو ان سے پہلوں نے کیا اور جس کی وجہ سے نو حصے کام ضائع ہوا اور صرف ایک حصہ ہو رہا ہے اس طرح جماعت کی ترقی نہیں ہو سکتی کیونکہ جو مبلغ اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور انہیں صحیح طور پر صرف نہیں کرتے وہ جماعت کے لئے ترقی کا موجب نہیں بن سکتے۔جو لوگ آئندہ مبلغ بننے والے ہیں وہ اپنے اوقات کی پوری طرح حفاظت کرنے کا تہیہ کریں ان کا کام صرف اپنے منہ سے تبلیغ کرنا نہیں بلکہ دوسروں کو دینی مسائل سے آگاہ کرنا، ان کے اخلاق کی تربیت کرنا، ان کو دین کی تعلیم دینا، ان کے سامنے نمونہ بن کر قربانی اور ایثا رسکھانا اور انہیں تبلیغ کے لئے تیار کرنا ہے۔گویا ہمارا ہر ایک مبلغ جہاں جائے وہاں دینی اور اخلاقی تعلیم کا کالج کھل جائے۔کچھ دیر تقریر کرنے اور لیکچر دینے کے بعد اور کام کئے جا سکتے ہیں مگر متواتر بولا نہیں جاسکتا کیونکہ گلے سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا مگر باقی قومی سے کام لے سکتے ہیں۔میں تقریر کرنے کے بعد لکھنے پڑھنے کا کام سارا دن جاری رکھتا ہوں۔اب تقریر کرنے کے بعد جا کر تحریر کا کام کروں گا اور پھر شام تک گلے کو کچھ آرام حاصل ہو جائے گا تو درس دوں گا۔انشاء اللہ۔پس میں مبلغین کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنا کام اب جو سمجھا ہوا ہے وہ ان کا کام ہے۔یہ بہت چھوٹا اور محدود کام ہے۔افسر کا کام یہ نہیں ہوتا کہ سپاہی کی جگہ بندوق یا تلوار لے کر 202