تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 197

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اول تقریر فرموده 17 نومبر 1935ء مبلغین جماعت احمدیہ کو نہایت اہم ہدایات تقریر فرمودہ 17 نومبر 1935ء مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلبا نے احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور کے ممبروں کو جامعہ احمدیہ کے صحن میں دعوت چائے دی اور ایڈریس پیش کیا از راہ شفقت حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس تقریب میں شرکت فرمائی اور حسب ذیل تقریر فرمائی: ”جب میں کوئی ایسا اجتماع دیکھتا ہوں جس میں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے فارغ طلبا کا مشترک حصہ ہوتا ہے تو میرا دل اس خوشی کو محسوس کرتا ہے کہ ایسے زمانہ میں جبکہ میری زیادہ عمر نہ تھی اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں ان دونوں شعبوں کو مٹائے جانے میں روک بن سکوں اور ان کے قائم رہنے میں مدد دے سکوں گو وہ کام مادی لحاظ سے زیادہ اہمیت نہ رکھتا ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ روحانی نقطہ نگاہ سے بہت بڑے نتائج پیدا کرنے والا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے چند ماہ پہلے یہ سوال اُٹھا کہ ہماری جماعت کو مخالفین کا چونکہ علمی لحاظ سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس لئے ہمیں علماء کی ضرورت ہے اور ان کے لئے کوئی انتظام ہونا چاہئے اس سوال کے پیدا ہونے پر عام طور پر یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کو بند کر دیا جائے اور تمام زور مدرسہ احمدیہ پر صرف کیا جائے اس وقت اس کے متعلق اس قدر غلو ہو گیا اور یہ معاملہ اس وقت کا اس قدرا ہم ترین مسئلہ بن گیا کہ اگر کوئی یہ کہتا کہ مدرسہ انگریزی بھی قائم رہنا چاہئے تو اس کے متعلق کہا جاتا کہ اس میں نفاق کی کوئی رگ ہے کیونکہ اس کے دل میں انگریزی مدرسہ قائم رکھنے کی خواہش ہے۔اُس زمانہ کی جو شیلی طبائع کے مطابق آخر تمام وہ لوگ جو بولنے والے تھے اور اہل الرائے سمجھے جاتے تھے مومن بن گئے اور کمزور ایمان والے ہم دو سمجھے گئے یعنی حضرت خلیفتہ اسیح الاول اور میں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اسح اول کی طبیعت میں چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب بہت زیادہ تھا اس لئے خود کچھ عرض کرنے کی بجائے جو دلائل مدرسہ ہائی کے قائم رکھنے کے متعلق سوجھتے وہ مجھے سمجھاتے اور فرماتے حضرت مسیح موعود کو سناؤ۔آخر میٹنگ ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مدرسہ ہائی کو قائم رکھا جائے اور مدرسہ احمدیہ کو لگ جاری کیا 197