تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 194

خطبه جمعه فرموده 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سے باہر کی ہندوستانی جماعتوں نے اتنا حصہ نہیں لیا جتنا میرے نزدیک وہ لے سکتے تھے۔کئی دوستوں نے تین سو کو آخری حد سمجھا حالانکہ یہ زیادہ تو فیق والوں کے لئے نیچے کی حد تھی اوپر کی حد نہ تھی مگر بعض نے بہت بڑی قربانی کا بھی ثبوت دیا۔چنانچہ انہوں نے اپنی آمد کا قریباً 1/4 حصہ علاوہ دوسرے چندوں کے اس تحریک میں دیا اور کل رقم چھپیں سو کی گزشتہ سال میں ادا کی۔یہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص ہے۔ان کے ہاں اولاد ہے اور ان کا نام لئے بغیر میں تحریک کرتا ہوں کہ دوست ان کے لئے ضرور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اولا د عطا کرے جو نیک اور دین کی خادم ہو۔پس دوبارہ اس تحریک کا اعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار بھی کرتا ہوں کہ دوست پہلے سے زیادہ اس سال حصہ لیں گے اور حقیقی قربانی کا ثبوت دیں گے تا ایمان کی قیمت میں اضافہ کا ثبوت مل سکے۔جو شخص ایک سال خوشخطی کی مشق کرتا ہے یقیناً اگلے سال اس کا خط بہتر ہوتا ہے اس طرح قربانی کرنے والے کے ایمان میں بھی اضافہ ظاہر ہونا چاہئے۔پس دوستوں کو اس امر کا ثبوت دینا چاہئے کہ گزشتہ سال کی قربانی نے ان کے ایمان میں اضافہ کیا ہے اور آج وہ پچھلے سال سے زیادہ خدا کی راہ میں تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور چاہئے کہ ہر جماعت کا چندہ پہلے سے بڑھ جائے اور ہر فرد کا چندہ پہلے سے زیادہ ہو سوائے اس صورت کے کہ کسی کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہے اور میں جانتا ہوں کہ بعض کے لئے ایسا کرنا فی الواقع ناممکن ہے کیونکہ بعض نے اپنی اس سال کی آمد میں سے چندہ نہ دیا تھا بلکہ گزشتہ عمر کا اندوختہ سب کا سب دیا تھا ایسے دوست بے شک روپیہ کی صورت میں گزشتہ سال جتنا حصہ نہیں لے سکیں گے لیکن یقیناً ان کا اخلاص ضائع نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص اور گزشتہ سال کی قربانی کی وجہ سے اس سال ان کے ثواب کو رقم کے لحاظ سے نہیں بلکہ گزشتہ قربانی کے لحاظ سے بڑھائے گا۔ان کے سوا جو لوگ ایسے ہوں کہ وہ بڑی زیادتی نہ کر سکتے ہوں ان کو بھی میں نصیحت کروں گا کہ وہ کچھ بڑھا دیں۔مثلاً پانچ کی جگہ چھ کر دیں یا دس کی جگہ گیارہ کر دیں تا کہ ان کا قدم نیکی میں آگے بڑھے کھڑا نہ رہے۔میں جماعت کو بتا چکا ہوں کہ ابتلاؤں کا ایک لمبا سلسلہ ان کے سامنے ہے، ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ان کے سامنے ہے جسے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہی ختم کرے گا۔گزشتہ قوموں سے زیادہ قربانیوں کی امیدان سے کی جاتی ہے کیونکہ ان کے سپر د دنیا کی آخری جنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پس یاد رکھو! کہ جو اس وقت کی حقیر قربانی نہیں کر سکتا کہ یہ جو مطالبات میں کر رہا ہوں آئندہ کے مقابلہ پر بالکل حقیر ہیں، اسے اس سے بڑی قربانیوں کی توفیق نہیں مل سکے گی، جو آج چھوٹی کلاس کا سبق یاد نہیں کرتا وہ کل کے بڑے 194