تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 190
خطبه جمعه فرموده 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول لئے تیار کروائی ہے یہ ضرور کھائیں۔میں نے اس میں سے ایک لقمہ لے لیا تا کہ ان کی دل شکنی نہ ہو کہ یہ بھی گناہ ہے۔پس چونکہ دوسرا کھانا شرعاً حرام نہیں ہے اس لئے ایسے موقع پر دوسری چیز کو بہ حد ضرورت استعمال کیا جاسکتا ہے۔گو پوری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ایک ہی کھانا استعمال کیا جائے۔پھر ادب اور احترام کا سوال بھی ہوتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ کوئی شخص دودھ لایا آپ نے پیا اور جو باقی بچا اسے کس کو دینا چاہا۔آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا۔اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔آپ نے چاہا کہ دودھ ان کو دے دیں، ممکن ہیں حضرت ابو بکر دیر سے بیٹھے ہوں اور آپ نے اس خیال سے کہ بوڑھے آدمی ہیں ان کو دینا چاہا ہو یا اور کسی وجہ سے آپ ان کو دودھ دینا چاہتے ہوں، بہر حال آپ نے دودھ انہیں دینا چاہا مگر چونکہ آپ کا عام قاعدہ یہ تھا کہ دائیں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔آپ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ میرے پینے سے کچھ دودھ بچا ہے اور میری عادت یہی ہے کہ دائیں طرف والے کو دیتا ہوں اس لئے یہ تمہارا حق ہے لیکن اگر تمہاری اجازت ہو تو میں ابوبکر کو دے دوں؟ اس لڑکے نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کا حکم ہے یا مجھے اجازت ہے کہ جو چاہوں کہہ دوں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں حکمتو نہیں بلکہ اگر تم چاہو تو لے سکتے ہو۔اس پر اس نے کہا کہ پھر حضرت ابوبکر کے لئے میں تبرک تو نہیں چھوڑ سکتا لائیے دودھ میرے حوالے کیجئے۔تو بعض ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ میزبان کا ادب اور اس کا احترام چاہتا ہے کہ اس کی پیش کردہ چیز کو رد نہ کیا جائے۔اس موقع پر ایک سے زیادہ کھانوں کی اجازت ہے مگر عام طور پر ایک ہی کھانا استعمال کرنا چاہئے۔ہاں بیمار کے لئے کوئی حد بندی نہیں۔ناشتہ میں چائے سالن نہ سمجھی جائے گی، چائے کے علاوہ روٹی کے ساتھ کوئی اور چیز بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔تیسری چیز لباس ہے۔میں نے کہا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو کم کپڑے بنوائے جائیں اور وہ بھی سادہ ہوں، عورتیں گوٹہ کناری استعمال نہ کریں، پھیری والوں سے کپڑا نہ خریدیں کہ اس طرح بلا ضرورت کپڑے خریدنے کی عادت پڑتی ہے اور صرف صحیح ضرورت پر کپڑا خریدیں اس ہدایت کو بھی میں پھر دو ہرا تا ہوں۔پھر میں نے کہا تھا کہ زیور نہ بنوائے جائیں ، نہ پرانے تڑوا کر اور نہ نئے۔ہاں ٹوٹے ہوئے کی مرمت کروائی جاسکتی ہے۔شادی بیاہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ زیور کی اجازت ہے مگر جہاں تک ممکن ہو کم زیور بنوائے جائیں۔اطبا اور ڈاکٹروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ محض تجربے کرنے کے لئے نئی نئی قیمتی دوا ئیں نہ تجویز کیا 190